”نجمہ چاچی…. آپ کے یہاں افطار میں روح افزاءکا شربت بنا ہے…. مجھے تو یہ شربت بہت پسند ہے۔ مگر امّی کہہ رہی تھی کہ اس مرتبہ ہمارے گھر شربت نہیں بن سکے گا کیونکہ لاک ڈاﺅن کے سبب ابّا کا کام بند ہوگیا ہے اور ہمارے پاس روح افزاءخریدنے کے لئے پیسے نہیں ہے۔“ ۰۱ سالہ عفت پڑوس والی چاچی کے دروازے پر کھڑے ہو کر افطار کیلئے سجا ہوا دسترخوان دیکھتے ہوئے کہتی ہے۔
بچی کی بات سن کر نجمہ چاچی نے افسوس کیا کہ ہمارے گھر میں تو نت نئے انواع و اقسام کی چیزیں موجود ہیں اور ہمارے پڑوسیوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ افطار میں کچھ خرید سکیں۔ یہ سوچتے ہوئے نجمہ چاچی نے ایک پلیٹ نکالی اور دسترخوان میں رکھی ہوئی ہر پلیٹ سے تھوڑا بہت اٹھا کر دوسری پلیٹ میں رکھتی گئیں۔ ایک گلاس میں شربت بھی بھرا اور پڑوس میں جا کر دے آئیں۔ عفت اور اس کے بھائی خوشی سے اچھل پڑے۔ عفت کے ماں باپ نے نجمہ چاچی کو مشکور نگاہ سے دیکھا۔
کورونا وائرس کے سبب اس وقت ملک گیر لاک ڈاﺅن جاری ہے۔ لاک ڈاﺅن کے سبب بیشتر افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اوپر بیان کی گئی کہانی بیشتر علاقوں میں دیکھنے مل جائے گی مگر نجمہ چاچی جیسی خاتون بہت کم ہوتی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین موقع دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے کام آئیں۔ اس ماہِ رمضان پڑوسیوں کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔ جانیں کیسے:
حقیقت معلوم کریں
اپنے آس پاس نظر دوڑائیں اور معلوم کریں کہ کس گھر میں کچھ کھانے کو ہے یا نہیں۔ اگر گھر کے بڑے بتانے میں جھجک محسوس کرتے ہیں تو گھر کے بچوں سے معلوم کیجئے۔ بچّوں سے بھی سیدھا سیدھا سوال نہ کریں بلکہ انہیں بہلاتے ہوئے انداز میں پوچھیں کہ ”بیٹا! آج افطار میں کون سی بجھیاں بنی ہیں؟“ اس طرح باتوں باتوں میں معلوم کریں اور سامنے والوں کو احساس دلائے بغیر ان کی مدد کریں۔
افطار پہنچانا
آپ کے اطراف جتنے گھر موجود ہے۔ روزانہ کسی ایک گھر افطار پہنچانے کا نظم کریں۔ افطار بھیجتے وقت یہ ضرور دیکھ لیں اس گھر میں کتنے افراد موجود ہیں۔ اسی مناسبت سے افطار تیار کریں۔ بہت زیادہ بخل کا مظاہرہ نہ کیجئے بلکہ فراخ دلی سے لوگوں کی مدد کیجئے۔
سحری کا بھی نظم
پڑوسیوں کو صرف افطار ہی نہیں بلکہ سحری بھی بھیجوائیں۔ موجودہ وقت میں کس کے کیسے حالات ہیں یہ سمجھنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہمارے یہاں بیشتر لوگوں کی تعداد ایسی ہیںجو صبح سے رات تک محنت کرتے ہیں تو کچھ رقم ہاتھ میں آتی ہے۔ لہٰذا اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو اپنے پڑوسیوں کو بھی تھوڑا حصہ دیں، اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا۔
جو خود کھاﺅ وہی دوسروں کو دیں
اپنے گھر میں آنے والی معیاری اشیاءہی میں سے پڑوسیوں کو دیں۔ سڑے گلے پھل ہرگز اپنے ہمسایہ کو نہ دیں۔ آپ نے فرمایا ہے جو خود کھاﺅ وہی دوسروں کو کھلاﺅ، جو خود پہنو وہی دوسروں کو پہننے کیلئے دو۔ اس بات کا پاس رکھتے ہوئے اپنے لئے منتخب کی گئی چیزوں میں تھوڑا اپنے پڑوسیوں کو دیں۔
پڑوسیوں سے بات نہیں ہے تو۔۔
اگر کسی زمانہ میں کسی پڑوسی سے کوئی کہا سنی ہوگئی ہے تو اس بات کو بھول جایئے۔ رمضان کا مبارک مہینہ ہے، ساری باتوں کو درگزر کر دیجئے۔ ان سے جاکر بات کیجئے، ان کے حالات معلوم کیجئے اور اس حساب سے ان کی مدد کیجئے۔
غم میں بھی شریک ہو جائیں
سحری و افطار کے علاوہ کوئی پڑوسی بیمار ہے تو اس کی عیادت بھی کرلیں۔ اگر کسی پڑوسی کے یہاں کسی رشتے دار کی موت واقع ہوگئی ہے تو اس کی دلجوئی کر دیجئے۔ یقیناً یہ سب باتوں پر عمل کرکے آپ ماہ رمضان بہترین انداز میں گزار سکتے ہیں۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- ماہِ رمضان ، لاک ڈاﺅن اورپڑوسیوں کا خیال
ماہِ رمضان ، لاک ڈاﺅن اورپڑوسیوں کا خیال
-
Ilyas - مئی 7, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 2
- 0 minute read


































