تحریر:علامہ محی الدین کاظم
اسلامی روایات کی روسے تمام آسمانی کتابیں تورات ، انجیل ، زبور، صحیفے اور قرآن مجید ماہ رمضان المبارک میں نازل ہوئے۔ روایات میں ہے تورات 6 رمضان ، انجیل12رمضان، زبور18رمضان اور قرآن شب قدر میں نازل ہوا۔ ماہ رمضان عظیم آسمانی کتب کے نزول اور تعلیم و تدریس کا مہینہ ہے۔ کیونکہ صحیح تربیت بغیر تعلیم اور سیکھنے کے ممکن نہیں۔ اللہ تعالی نے لوگوں کی تربیت اور تزکیہ نفس کے لئے ایک مہینہ کا تربیتی پروگرام دیا ہے۔ تاکہ انسانی روح اوربدن کی آلودگی سے پاک ہوجائیںاور جب قلب پاک وپاکیزہ ہوجائے گا۔ تو اس میں جو بیج کاشت کیا جائے گا وہی ا±گ آئے گا۔
ماہ رمضان وہ عظیم مہینہ ہے کہ جس میں گناہ گار اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے گناہگار بندوں کو اپنی رحمت اور فضل کے صدقے میں معاف کر دیتا ہے۔ ماہ مبارک کے آخری عشرے میں اللہ تعالی بہت سے ایسے لوگوں کو جن پر جہنم کی آگ واجب ہو چکی ہوتی ہے اس مہینہ کے صدقہ میں ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور انہیں جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ عطا کرتاہے۔ حضور کریم نے فرمایا:۔لوگو!خدا کی برکت ، بخشش اوررحمت کا مہینہ تمہارے پاس پہنچ گیا ہے۔ یہ مہینہ تمام مہینوں سے بہترہے اس کے دن دوسرے دونوں سے بہتر ، اس کی راتیں دوسری راتوں سے بہتر، اس کی گھڑیاںدوسرے مہینے کی گھڑیوں ، اور اس کے لمحات دوسرے مہینے کے لمحات سے بہتر ہیں۔ اس مہینہ کے آخر عشرے مٰیں اللہ تعالی نے ایک رات کو لیلة القدر قراردیا۔ جس مقدس رات میں اللہ تعالی نے قرآن کریم کو حضو ر بنی کریم کے قلب مطہر پر نازل کیا۔ اور اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عباد ت سے بہتر قرار دیا۔ اس رات میں اختلاف ہے کہ یہ رات آخر طاق راتوں میں کونسی ہے۔اتنا مسلم ہے کہ وہ رات آخری عشرے میں ہے مومن و مسلمان کو چاہیے کہ پورے عشرے کی طاق راتوں میں اللہ کی عبادت کرے۔ تاکہ لیلة القدر میں عبادت یقینا ہوجائے۔
قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ آخری الہامی کتاب اور پیغمبرخاتم کا قیامت تک باقی رہنے والا وہ زندہ معجزہ ہے کہ جس کے بعد نہ کوئی کتاب آنی ہے اورنہ اس کتاب کو کوئی نقصان پہنچا سکتاہے۔ اس لیے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خالق اکبر نے اپنے ذمہ لی۔ چنانچہ سورہ الحجر آیت نمبر15میں۔انتہائی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا:۔ہم نے ہی اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خالق اکبر اپنے ذمہ لے اگرا س میں کمی اور زیادتی کی تحریف کا کوئی قائل ہوتاہے۔تو وہ دشمنان اسلام کے پروپیگنڈے سے متاثر ہے۔ یہی قرآن حضور پر نازل ہوا ہے جو آج تمام مسلمانوں کے گھروں میں موجود ہے اس میںنہ کمی ہوئی ہے نہ زیادتی۔ جتناقرآن حضور کے قلب مطہر پر نازل ہواہے۔اتنا ہی آج موجودہے۔اگر کسی کتاب میں کوئی روایت آجاتی ہے۔ تو قرآن کی آیت کے مخالف ہونے کی وجہ سے رد کر دی جائے گی۔ جیسا کہ حضرت جعفر الصادق ؑ فرماتے ہیں : اس(روایت) کو قرآن پر پیش کرو۔اگر قرآن کے مطابق ہے تو لے لو اور اگرقرآن کے مخالف ہے تو اسے دیوار پہ دے مارو۔یعنی رد کر دو۔یہ دشمنوں کی کار ستانی ہے۔قرآن وہ عظیم کتاب ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب جس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
عظمت قرآن کے متعلق حضرت علی ابن ابی طالبؑ نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر(196) میںفرماتے ہیں:
اللہ نے رسول کریم پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی جو ایسا نور ہے جس کی قندیلیں گل نہیں ہوتیں،ایسا چراغ ہے جس کی لو خاموش نہیں ہوتی۔۔ایسا دریا ہے جسکی تہ تک رسائی نہیں ہوتی۔۔ایسا راستہ ہے جس میں راہ پیمائی بے راہ نہیں کرتی۔۔ایسی کرن ہے جس کی روشنی مدھم نہیں پڑتی۔۔وہ ایسا حق وباطل میں امتیاز کرنے والا ہے جس کی دلیل کمزور نہیں پڑتی۔۔ایسا کھول کر بیان کرنے والا ہے جس کے ستون منہدم نہیں کیے جاسکتے۔۔وہ سرا سر شفا ہے جس کے ہوتے ہوئے (روحانی) بیماریوں کا کھٹکا نہیں۔۔وہ سراسر عزت وغلبہ ہے جس کے یارومددگار شکست نہیں کھاتے۔۔وہ سراپا حق ہے جس کے معاون بے یارومددگار نہیں چھوڑے جاتے۔۔وہ ایمان کا معدن اور مرکز ہے۔۔ یہ علم کے چشموں او ر سمندورں سے عبارت ہے ´۔۔ اس میں عدل کا چمن اور انصاف کا حوض ہے۔۔ اور اسلام کا سنگ بنیاد اور اس کی اساس ہے۔۔ حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے۔۔ وہ ایسا دریاہے جس سے پانی بھرنے والے ختم نہیں کر سکتے۔۔ وہ ایسا چشمہ ہے جس سے پانی الچنے والے خشک نہیں کرسکتے۔۔ وہ ایسا گھاٹ ہے جس پر اترنے والوں سے اس کا پانی گھٹ نہیں سکتا۔۔ وہ ایسی منزل ہے جس کی راہ میں کوئی راہر و بھٹکتا نہیں۔۔ وہ ایسا نشان ہے کہ چلنے والے کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتا۔۔ وہ ایسا ٹیلہ ہے کہ جس کا قصد کرنے والے اس سے آگے نہیں گزرسکتے۔۔اللہ نے اسے علماءکی تشنگی کے لئے سیرابی۔۔فقیہوںکے دلوں کےلئے بہار۔۔ اور نیکیوں کی رہگذر کےلئے شاہراہ قرار دیا۔۔ یہ ایسی دواہے جس سے کوئی مرض باقی نہیں رہتا۔۔ ایسا نورہے جس میں تیر گی کا گزر نہیں ہے۔۔ ایسی رسی ہے کہ جس کے حلقے مضبوط ہیں۔۔ ایسی چوٹی ہے کہ جس کی پناہگاہ مضبوط ہے۔۔ جو اس سے وابستہ ہو اس کےلئے سرمایہ عزت ہے۔۔ جو اس کے حدود میں داخل ہو اس کے لئے پیغام صلح وامن ہے۔۔ جواس کی پیروی کرے اس کےلئے ہدایت ہے۔۔ جوا سے اپنی طرف نسبت دے اس کے لئے حجت ہے۔۔ جواس کی روسے بات کرے اس کے لئے دلیل وبرہان ہے۔۔ جو اس کی بنیاد پر بحث و مناظر کرے اس کےلئے گواہ ہے۔۔ جو اسے حجت بنا کر پیش کرے اس کے لئے فتح وکامرانی ہے۔۔ جوا س کا بار اٹھائے یہ اس کا بوجھ بٹانے والا ہے۔۔ جو اسے اپنادستوالعمل بنائے اس کےلئے وسیلہ راہ ہے۔۔ یہ حقیقت شناس کےلئے ایک واضح نشان ہے۔۔ جو سلاح بند ہو اس کے لئے سپر ہے۔۔جو فہم رکھتاہے اس کے لئے علم و دانش ہے۔۔ بیان کرنے والے کے لئے بہترین کلام ہے۔۔ اور فیصلہ کرنے والے کےلئے قطعی علم ہے۔۔
قرآن مجید وہ جامع کتاب ہے جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے لائحہ عمل پر مشتمل ہے۔
۱۔(سورہ اسرا ءآیت نمبر9)ترجمہ :بے شک یہ قرآن یقینا اس راہ کی ہدایت کرتاہے جو بالکل سیدھی ہے۔
جو دوسرے بشری مذاہب سے بہتر انسانیت کے نظم ونسق کو چلاتاہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کی راہیں اسی کتاب سے وابستہ ہیں۔چونکہ قانون سازی کا حق فقط اللہ تعالی کی ذات کو ہے۔ اس ذات کے علاوہ کوئی اور ذات لوگوں کے فرائض اور قانون مقرر نہیں کر سکتی۔ اس لیے انسانی زندگی میں وہی قانون مفید اور کار آمد ہوسکتے ہیں جو اس کی فطر ت کے عین مطابق ہوں۔قرآن مجید نے انسانی زندگی کا لائحہ عمل اس طرح مرتب کیا ہے کہ خداشناسی کو اس کی بنیاد قرار دیااور اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان کو دین کی اساس قرار دیا۔ جس میں اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔اچھے اور بر±ے اعمال کا بدلہ اس صورت میں ممکن ہے کہ جب پہلے اچھے یا بر±ے اعمال کی الہی نمائندے سے پہچان کرائی جائے۔ اللہ تعالی کی طرف سے کسی نبی یا رسول کا ہونا ضروری ہے جو اطاعت اور معصیت ،نیکی اور بدی، غلط اور صحیح کی نشاندہی کرے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی کی وحدانیت ، نبوت اور قیامت پر ایمان کو اصول اسلام قرار دیاگیا۔ پھر ایسے اصول بتائے گئے جن کا ایک حقیقت پسند اور باایمان انسان میں پایا جانا ضروری ہے۔یعنی اخلاق حمید ہ او ر صفات حسنہ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ انسان خدا اور آخرت پر ایمان رکھتاہو اور ذکر خدا سے بھی غافل ہو ؟۔ جو معمولی احسان کرے اسے تو سلام کرنا ضروری سمجھا جائے اور جس مالک حقیقی نے ماں کے شکم سے لے کرروح نکلنے تک اتنی نعمات عطا کی ہوں کہ انسان ان کو شمار نہیںکرسکتا۔ کیا اس ذات کو نہ جھکا جائے اور اس کے سامنے انسان خشوع و خضوع کی حالت میں سجدہ ریز نہ ہو۔
انسان یہ عقیدہ تو رکھتاہو کہ اس دنیا میں میں جو کر رہا ہوں اسے خدا دیکھ رہا ہے۔ اور کل قیامت کو میں نے اس کی بارگاہ میں حساب دینا ہے۔ تو ظلم ، چوری ، خیانت ، شراب نوشی اورجنسی امور میں کسی قید و شرط کی پروا نہ کرنا۔کیا یہی ایمان ہے ؟متکبر ، مغرور ، خود پسند شخص بارگا ہ ربوبیت میں کیسے متواضع اور خاضع ہو سکتاہے۔ایسے شخص سے انکساری ، خشو ع وخضوع کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جس شخص نے عمر بھر انصاف ، مروت ، بھائی چارہ ،رحم اور شفقت کا نام تک نہ سنا ہو۔اس کے لئے کیسے ممکن ہے کہ وہ قیامت اور محاسبہ پر ایمان رکھے۔
قرآن مجید پیغمبر خاتم کی نبوت کی سند ہے۔قرآن نے ان لوگوں کو جو اسے اللہ تعالی کا کلام نہیں مانتے تھے چیلنج کیا۔ کہ اگر قرآن خدا کا کلام نہیں ہے تو تم اس کے مقابلے میں کوئی کلام لے آئے۔قرآن کا خطاب فقط ایک خطے کے لوگوں کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کو ہے۔ لیکن وہ اس کی نظیرنہ لا سکے۔تو جب قرآن اللہ کا کلام ہے تو قرآن شروع سے آخرتک پیغمبر اکرم کو نبی قرار دیتاہے۔ اور اس کی تصدیق کرتاہے۔
قرآن مجید ایک عالم گیر کتاب ہے۔ قرآن کے مفاہیم کسی قوم ، قبیلے یا نسل کے ساتھ مختص نہیں بلکہ سورہ قلم کی آیت نمبر52میں ارشاد ہوتاہے ،ترجمہ :یہ قرآن دنیا جہان والوں کے لئے نصیحت ہے ۔جس کے قوانین، ہدایات، چاہے انفرادی ہوں یا اجتمائی ، اخلاقی ہوں یا سیاسی ، معاشرتی ہوں یاخانگی۔ہر قسم کی فلاح ،اصلاح اور ہدایت کا ضامن ہے۔
کہ قرآن ایک مکمل کتاب ہے جو مکمل آفاقی نظریات اور اس سے ہم آہنگ اخلاقی اصول اورعملی قوانین سے عبارت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ترجمہ :اور ہم نے آپ پر بتدریج کتاب نازل کی جو ہر شے کو بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید ایک دائمی اور ابدی کتاب ہے جو ایک خاص زمانہ یامدت کے ساتھ مختص نہیں۔قرآن اپنے بیانات کو کامل قراردیتاہے قرآن مجید حق وباطل کے درمیان حد فاصل ہے۔
قرآن مجید پیغمبر خاتم کا وہ زندہ معجزہ ہے جس کی تمام پیشنگوئیاں حق و سچ ثابت ہوئیں۔حضور اکرم کے دو بڑے مخالف ابو لہب اور ام جمیل کو قرآن نے سور ہ ابو لہب میں جہنمی قرار دیا۔ گویہ کہ اس سورہ میں جہنمی ہونے کا مقصد یہ تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی حضور پر ایمان نہیں لائیں گے۔چاہے ساری دنیا حضور پرا یمان لے آئے۔
ابو لہب مکہ کا ایک چالاک ،مکار، عیار اور شریر انسان تھا۔ اگر یہ دونوںمیاں بیوی باہمی سازباز کر کے مسجد میں آجاتے اور حضور کے پاس منافقانہ طریقہ پر کلمہ پڑھنے کی درخواست کرتے۔ چاہے دل سے نہ ہی پڑھتے۔ تو جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے کہ قرآن نے تو کہا تھا کہ یہ دونوں جہنمی ہیں یعنی کبھی مسلمان نہیں ہوں گے۔مگر ان کی زبانوں پر لاالہ الااللہ جاری ہوگیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن نے جو پیشنگوئی کی تھی وہ درست ثابت نہ ہوئی۔
اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس کی پیشنگوئی درست ثابت ہوتی۔ لہذا یہ خدا کاکلا م نہیں ہے۔ اور وہ نئے مسلمان الٹے پیروں پہلی حالت کی طر ف پلٹ جاتے اور رسول گرامی کا مشن فیل ہوجاتا۔ اوریہ دونوں مسکراتے ہوئے اپنے گروہ میں پھر شامل ہو جاتے۔لیکن پیغمبر اکرم کو قرآن کی حقانیت پر اتنا یقین تھا کہ جب یہ سورہ نازل ہوا تو آپ نے کوئی پردہ داری نہ کی۔ بلکہ جلسہ عام میں سورہ کو ابولہب کے منہ پر سنا دیا۔کہ گویا کہ حضور نے یہ اعلان کیا کہ تو منافقانہ طریقہ پر بھی کلمہ نہ پڑھ سکے گا۔ یہ قرآن کی عظمت وحقانیت ہے تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اس جوڑے کو منافقانہ طریقہ پر بھی کلمہ پڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔


































