کیا زائرین اور دوسرے ممالک سے آنیوالوں کیلئے الگ قانون ہے
لاہور (نیوز ڈیسک) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے ملتان قرنطینہ سے منفی نتیجہ آنے کے باوجود زائرین کو اپنے گھروں کے بجائے اضلاع کی قرنطینہ میں منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کرکے واپس آنے والوں کو فی الفور رہا کیا جائے، لاہور میں علما سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پنجاب انتظامیہ مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ ان زائرین نے تفتان بارڈر پر اذیت ناک ایام گزارنے کے بعد ملتان میں بھی 14 کی بجائے 18 دن گزار لئے، ان کے ٹیسٹ لئے گئے، لیکن ٹیسٹ منفی آنے کے بعد بھی انہیں گھر بھیجنے کی بجائے متعلقہ اضلاع میں قید کر دیا گیا ہے، یہ ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان اور مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زائرین کو فوری طور پر رہا کرکے ان کے گھروں میں پہنچایا جائے، علامہ نیاز نقوی نے حکومت سے استفسار کیا کہ کیا اسی طرح کا رویہ امریکا، برطانیہ، اسپین، اٹلی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے آنیوالے مسافروں کیساتھ بھی روا رکھا گیا ہے، یا یہ تذلیل صرف اور صرف ایران سے آنیوالے زائرین کیلئے ہے؟ حقیقت حال یہ ہے کہ زائرین اور دوسرے ممالک سے آنیوالے شہریوں کیلئے قانون الگ الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم متوجہ کرتے ہیں کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور انتباہ کرتے ہیں کہ زائرین کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو عوام میں پایا جانا اشتعال حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بنے گا۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- مشرق وسطی
- زائرین کو قید کرنا ظلم کی انتہا ہے، علامہ قاضی…


































