بچے کی جذباتی نشوونما اسے زندگی میں کامیاب یا ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ناخوشگوار جذبات بچے کی شخصیت پر بہت منفی اثر ڈالتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسے مایوسی کے گہرے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ جبکہ خوشگوار جذبات بچے میں خود اعتمادی پیدا کرکے اس کی زندگی میں رنگ اور رونق بھر دیتے ہیں جس کا اثر دوسروں کے سلوک سے بچے کے رویوں پر پڑتا ہے۔ دوسروں کے یہی رویے بچے کے اندر ”تصورذات“ کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ذاتی اور معاشرتی مفاہمت کے علاوہ جذبات بچے کی شخصیت کی تعمیر میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں جواس کی شخصیت کی ظاہری اور باطنی اٹھان میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ دوسروں کا ردعمل انسانوں کے اپنے جذبات اور رویوں کا عکس ہوتا ہے۔ مثلاً:
*۔۔۔طرح طرح کے جذبات زندگی میں ہلچل اور رونق پیدا کرتے ہیں اور مختلف رنگ بھرتے ہیں۔ حتیٰ کہ غصے اور خوف جیسے جذبات بھی بچے میں ولولہ پیدا کرتے ہیں۔ خصوصاً ان کے اختتام پر ذہن کو جو سکون اور خوشی ملتی ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔ مختلف موقعوں پر خوشی یا غمی کے مناسب اظہار سے دوسروں کی نظر میں انسان باوقار ٹھہرتا ہے اور اس کی شخصیت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات انسان کے جسم کو عمل کے لئے تیار کرتے ہیں، جذبات جس قدر شدید ہوتے ہیں، عمل اسی قدر تیز ہوتا ہے اور عمل میں یہی تساہل یا چستی دوسروں کے ذہن میں جو تاثرات پیدا کرتی ہے، اس کا رد عمل شخصیت میں تصورذات کی تشکیل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات عضلاتی تنظیم میں سے بے ربطگی کا باعث ہوتے ہیں اور عضلاتی توازن میں گڑ بڑ بھی پیدا کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شدت جذبات سے اکثر زبان میں لکنت اور جسمانی حرکات میں بے ہنگم پن پیدا ہو جاتا ہے، جس کا دوسروں پر بھی خاص اثر پڑتا ہے اور خود انسان کی اپنی شخصیت میں تصور ذات بھی اس عضلاتی توازن سے متاثر ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات خاموش گفتگو اور اندرونی اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ اور آنکھوں، چہرے اور جسم کی کیفیات انسان کے اندرونی جذبات سے دوسروں کو مطلع کردیتی ہیں، جس کا رد عمل اس کی تصور ذات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات ذہنی عمل میں بھی مخل ہوتے ہیں۔ غصے، نفرت اور محبت وغیرہ کے تاثرات ذہن پر جو اثر ڈالتے ہیں، وہ کافی دیر تک ذہنی کاموں میں خلل اندازی کرکے اسے کسی دوسرے کام کی طرف مائل نہیں ہونے دیتے۔ خصوصاً جب جذبات شدید ہوں تو اس سے کسی اہم کام میں تاخیر ہو جاتی ہے یا ناکامی شخصیت کے اعتماد کو تہس نہس کردیتی ہے۔
*۔۔۔جذبات معاشرتی میل جول اور ذاتی تجزیے کا باعث ہوتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو ان کی رویوں سے پہچانتے ہیں اور انہی کے مطابق مقام دیتے ہیں، جبکہ خود انسان اپنی ذات کے بارے میں رائے (تصور ذات) کا تعین اور تجزیہ دوسروں سے میل جول اور ان کے سلوک اور رد عمل کی روشنی میں کرتا ہے۔ یہ تصور ذات شخصیت میں اعتماد یا احساس کمتری پیدا کرنے کا ضامن ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات انسان کے نظریہ حیات میں رنگ بھرتے ہیں اور بچے خوش مزاج، غصیلے یا شرمیلے وغیرہ ہونے کی بناء پر مستقبل میں اپنا خصوصی مقام آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ انہیں دوستی کے موجودہ دائرہ سے بھی ہو جاتا ہے۔
*۔۔۔جذبات میل جول کے طریقے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ پر اعتماد شخصیت کے مالک بلا جھجک دوسروں سے گفتگو کرتے ہیں، ان کی مدد کرنے اور مشورہ دینے میں پیش پیش رہتے ہیں اور لوگوں میں ہر دلعزیز اور مقبول ہوتے ہیں جبکہ احساس کمتری میں مبتلا لوگ اپنے ہم عمروں سے بہت کتراتے ہیں، بات چیت سے گریز کرتے ہیں اور ہر وقت دبے دبے رہتے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض متعدد خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود ابھر نہیں سکتے۔ اکیلا پن، دوسروں پر انحصار اور تقلید ان کا شیوہ ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات چہروں پر اپنے تاثرات ثبت کردیتے ہیں۔ خوشگوار جذبات چہروں میں خوبصورتی اور کشش پیدا کرتے ہیں، جبکہ ناخوشگوار جذبات شکل کو بگاڑ دیتے ہیں۔یہ عمل ان کی شخصیت اور تصور ذات کو متاثر کرتا ہے۔
*۔۔۔جذبات نفسیاتی فضا پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ گھر میں، اسکول میں، ہمسایوں اور احباب کے ساتھ جس طرح کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے، اسی کے مطابق رد عمل موصول ہوتا ہے جو عمل کرنے والے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یوں ایک شخص کے غصے سے سارے گھر کی فضا ناخوشگوار ہو جاتی ہے جبکہ ایک شخص کے پیار سے سارے گھر میں محبت آمیز ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ جو شخصیت کو نکھارنے اور اعتماد پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
*۔۔۔جذبات کے اظہار کے جس طریقے کو بار بار دوہرایا جائے وہ عادت بن جاتا ہے اور بچہ اس طریقے کو دہراتا ہے جس سے اسے سکون ملتا ہے اور اس کی خواہش کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ اس طرح ضد کرنا، بے وجہ جھگڑنا، گستاخی یا ہمدردی اور پیار بچوں کی عادت بن جاتی ہے، جسے شروع میں تو ڈھالا جاسکتا ہے لیکن پختہ ہونے پر اس میں تبدیلی نہایت ہی مشکل ہوتی ہے۔ بچوں کی ایسی عادت پر انہیں اچھا بھی سمجھا جاتا ہے اور برا بھی کہا جاتا ہے۔ جس کا اثر بچے کی ذات اور شخصیت پر ہوتا ہے۔ مثلاً ناپختہ بچے جب اپنے جذبات کا شدت سے اظہار کرتے ہیں تو اپنے کھلبلے پن اور بے وضع ہنسنے سے لوگوں کو اپنی کم عقلی اور ناپختگی کا ثبوت مہیا کرتے ہیں، جسے لوگ ناپسند کرتے ہیں۔ اسی طرح جذبات کو مکمل طور پر دبانے اور چھپانے والے بچوں کے ذہن بوجھل ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کے رویوں میں میانہ روی اور یکسوئی نہیں پائی جاتی اور یہ ”موڈی“ ہو جاتے ہیں۔ موقع بے موقع اپنے دبے ہوئے جذبات کو نکالنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر غیر معاون (Non-cooperative) ہوتے ہیں۔ اپنی ذات میں مگن اور گستاخ ہوتے ہیں۔ جذبات کو کچلنے اور دبانے والے لوگ گھبرائے رہتے ہیں اور دوسروں کی نگاہوں میں قابل تعریف نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب شخصیت کے مالک نہیں ہوتے۔ البتہ جذبات پر قابو رکھنے والے متحمل مزاج لوگ جو صحیح موقعوں پر صحیح قسم کے جذبات کا اظہار کرنا جانتے ہیں، لوگوں میں پسند کئے جاتے ہیں۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- جذباتی نشوونما کا شخصیت پر اثر
جذباتی نشوونما کا شخصیت پر اثر
-
Ilyas - اپریل 23, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 19
- 1 minute read


































