
سعودی عرب کے مختلف فوجی ٹھکانوں پر ڈرون اور میزائلوں سے حملے، نجران کے سرحدی علاقے میں سعودی عرب سے حملہ آور دو ڈرونز کو میزائل مار کر گرادیا
امن معاہدے کیلئے امریکی نمائندے کی عمان اور سعودی عرب آمد، محاصرہ پوری طرح ختم ہونے تک قیام امن کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی، انصار اللہ
صنعا (نیوز ڈیسک) یمنی فوج اور رضاکار فورس نے جارح اتحادی فورسز پر حملے تیز کردئے ہیں اور سعودی عرب کے مختلف فوجی ٹھکانوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا جبکہ سعودی عرب کے دو حملہ آور ڈرون مار گرائے ، جبکہ امریکا نے ایک بار پھر یمن میں امن مسلط کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں،تفصیلات کے مطابق یمنی فورس نے سعودی عرب سے حملہ آور دو ڈرونز کو میزائل مار کر گرادیا، دو ڈرونز کونجران کے قریب سرحدی علاقوں میں گرایا گیا،ادھر امریکایمن کیلئے امریکی نمائندے ٹم لینڈر کنگ عمان اور سعودی عرب پہنچے تاکہ یمن جنگ بندی کیلئے کوششوں کو آگے بڑھایا جائے ،یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے سعودی عرب کے فوجی اتحاد سے کہا ہے کہ وہ یمن کا محاصرہ ختم کرکے جنگ روکنے کے لئے سنجیدگی سے مذاکرات شروع کرے، ہم اقوام متحدہ اور دوسرے تمام فریق کے لئے اعلان کرتے ہیں کہ ہم امن کے قیام کے ہر عمل میں پوری طرح شرکت کے لئے تیار ہیں، دوسری جانب نیشنل سالویشن حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ جب تک ملک کا محاصرہ پوری طرح ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک قیام امن کے لئے کسی بھی درخواست کو سنجیدہ نہیں سمجھا جائے گا۔ ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ حکومت یمن کو جارحیت رکوانے کے لئے اقوام متحدہ کی جانب سے کسی طرح کی کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے، بعض بین الاقوامی فریق صرف جارحین کے لئے امن کے خواہاں ہیں یمن کے لئے نہیں اور ان حالات میں کوئی صلح نہیں ہوسکتی۔


































