اگر آپ چاہتے ہیں اور آپ میں ایسا سوچنے اور خواہش کرنے کی ہمت ہے کہ زندگی کے ہر محاذ پر بچے آپ سے چار قدم آگے جا کر سوچیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے اپنے آس پاس والے معصوم، بھولے اور نا سمجھ دوستوں کی نصیحتوں اور اسباق پر زندگی تعمیر کرنے کی بجائے زندگی کے اعلی مقاصد کو سمجھیں اور ان کو زندگی میں شامل کر سکیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر، کسی منزل پر کسی آزمائش میں ان کے پاس اچھے دوستوں اور اچھی نصیحتوں کی کمی نہ ہو، کبھی ان کے نئے عزم، حوصلے اور خیالات کی زمیں بنجر نہ ہو، اور وہ انسانوں میں انسانوں کو عام لوگوں سے زیادہ سمجھ کر زندہ رہیں تو آپ کے بچوں میں کتابیں پڑھنے اور سیکھنے کی عادت ہونا بہت ضروری ہے۔
کتاب ہی وہ دوست ہے جو قید تنہائی سے لے کر ہجوم دوستاں تک میں انسان کو ہمیشہ تازہ دم اور مستعد رکھتا ہے، جو کسی بھی موڑ پر انسان کوغلط اور صحیح کی پہچان کھونے نہیں دیتا، اور ہمیشہ اپنے ہم عصر دوستوں اور افراد کو بہتر نصیحتیں اور رستے دکھاتا ہے۔ اب سوال جو والدین ہمیشہ اٹھاتے ہیں کہ وہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے جدید ترین معاشرے اور زمانے میں سوشل میڈیا اور نیٹ فلیکس کے دور میں بچوں کو پڑھنے کی عادت کیسے ڈالی جائے۔
سب سے پہلے یہ غلط فہمی ختم کر لی جائے کہ کتاب پڑھنا اور سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ دراصل یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جیسے کتاب اور رسالے ہمیں نئی دنیاو?ں اور علم کے نئے جہانوں سے متعارف کرواتے ہیں اور ایک کتاب یا رسالے میں آپ کو اچھی سے اچھی اور بری سے بری چیز مل سکتی ہے۔ یہ انسان کی بصیرت فیصلہ کرتی ہے کہ وہ اس کتاب سے کیا سبق اخذ کر سکتا ہے دراصل ایسے ہی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا ہمارے پڑھنے اور سیکھنے کے نئے ذرائع ہیں۔
یہ ہماری بصیرت فیصلہ کرتی ہے کہ ہم ان ذرائع سے کیا انتخاب کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں فالورز اور دوستوں میں گھرے رہنے والوں اور کتابوں اور رسالوں کو فالو کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے والے میں اتنا ہی فرق ہے جتنا تھڑے پر بیٹھ کر دوستوں میں گھرے رہنے والوں اور لائبریری میں کتابوں میں سر چھپائے بیٹھے رہنے والوں میں ہوتا ہے۔ صرف فرق ان آلات کا ہے، ورق اور سکرین کا ہے۔ عادتیں بھی وہی ہیں، رویے بھی وہی اور برتنے والے انسان بھی۔
فرق صرف طریقہ استعمال کا ہے۔ اگر کتاب کے مطالعہ کا مقصد شعور اور عقل کا حصول ہے تو یہ سب بہت ہی بہترین طریقے سے نئے زمانے کی ٹیکنالوجی سے پہلے سے بہتر انداز میں ممکن ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان سے بہترین طریقے سے نمٹنا سیکھا جائے۔ تو اگر آپ کے بچے ڈیجیٹل میڈیا، اور ٹیکنالوجی کے عادی ہو رہے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ نئے وقت کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونا سیکھ رہے ہیں۔ بری بات تب ہے جب آپ ان کو لائبریری میں بیٹھنے یا تھڑے پر دوستوں کے ساتھ دن بھر بیٹھے رہنے میں فرق نہیں سمجھا پاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اس سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو بہترین فوائد کے لئے جاننے اور سمجھنے کے لئے، پڑھنے اور علم حاصل کرنے کے لئے سیکھنا سکھایا جائے۔
تو سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں کہ بچوں کو کتاب پڑھنے کا شوق کیسے ڈالا جائے۔ آپ اپنے بچوں کو کبھی بھی ایسی بات نہیں سیکھا سکتے جو کبھی آپ نے خود ہی نہ سیکھی ہو۔ جس چیز کو کبھی آپ نے خود ہی اہمیت نہ دی ہو آپ مر کر بھی بچوں کو یہ نہیں سکھا سکیں گے کہ وہ اہم ہے۔ کیونکہ بچہ سب سے بڑی تربیت والدیں کے اعمال و کردار سے لیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری اچھی اچھی نصیحتیں اور باتیں بچوں کی تربیت کر دیں گی۔ جبکہ بچے آپ کا عملی مظاہرہ چاہتے ہیں۔
جو چیز والدین کے ہاتھ میں ہو اس سے بڑھ کر توجہ طلب چیز بچوں کے لئے اور کوئی نہیں۔ تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ خود کتاب اور مطالعہ کو اہمیت دیں۔ پڑھنے کا وقت نہیں، ملازمت، گھر کے کام کاج، بچے پالنا، گھر داری، ہر چیز وقت مانگتے ہیں، سچ ہے!۔ مگر بچوں کی خاطر اگر ہم میکڈونلڈز، واٹر پارک اور سیرو تفریح پر وقت خرچ کر سکتے ہیں تو بچوں کی تربیت کی خاطر روزانہ ایک دو صفحات، ہفتے میں چند اوراق یا مہینے بھر میں محض دو تین نشستیں بچوں کی تربیت کی خاطر ارینج کرنے میں کوئی مشکل نہیں۔
شیر خواری سے ان کے ہاتھوں میں کھلونے کے ساتھ کھیلنے کے لئے کتاب بھی دیں۔ کم عمری سے دن میں کسی نہ کسی وقت ان کے ساتھ بیٹھیں اور انہیں وہ کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔ جو زبان آپ بچوں کو سکھانا چاہتے ہیں اس زبان میں ان کو کہانیاں سنائیں۔ ان کو تصاویر کی طرف متوجہ کریں، ان سے کرداروں کی زبان میں باتیں کریں۔ چھوٹے بچوں کی کہانیاں چند الفاظ یا چند جملوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ زیادہ وقت نہیں لیتیں۔ مگر یہ چھوٹے چھوٹے لمحے ان کی زندگی میں بڑے بڑے فرق ڈال دیتے ہیں۔
جس دن آپ کے بچے پڑھنا سیکھ جائیں گے اس دن آپ کو انہیں کہانی سنانے کے وقت سے نجات مل جائے گی۔ مگر تب تک ایک کامیاب عادت کی بنیاد آپ ڈال چکے ہوں گے۔ ہر ماہ ایک دو اچھی کتابیں گھر میں لانے کی روایت پیدا کریں، گھر لا کر کتاب بچوں کو دکھائیں، ان کا تعارف کروائیں اور کبھی کبھار مطالعہ کا وقت نکالیں، نہ نکال سکیں تو ان کو سنوارتے رہیں، سجاتے رہیں تا کہ بچوں کو محسوس ہو کہ یہ کوئی خاص مہمان ہیں۔ آپ آج یہ کتابیں نہ بھی پڑھ سکے تو اس کوشش سے جو عادت آپ بچوں کو ڈالیں گے اسی عادت کے تحت آنے والے کل میں بچے خود ان کتابوں کو پڑھ لیں گے۔
اپنے گھر میں لائبریری کی ایک جگہ بنائیں۔ الگ کمرہ نہیں تو ایک دیوار، ایک الماری یا الماری کا ایک خانہ آپ کے گھر میں آپ کی کتابوں کے لئے اور اور ایک خانہ بچوں کے کمرے میں ان کی کتابوں کے لئے ضرور مختص کریں۔ اس سے بچوں کے دماغ میں لائبریری ایک لازم ملزوم چیز کی طرح اپنی جگہ بنا لے گی۔ اپنی لائبریری سجاتے رہیں اور بچوں کو اپنی لائبریری سنبھالنا سکھاتے رہیں۔ اگر آپ کے گھر صرف نصابی کتابیں پائی جاتی ہیں تو بچوں کا کتاب کی طرف متوجہ ہونا مشکل یے چونکہ گھر کے ماحول میں ان کا وجود نہیں۔
نصاب تو ایک ضرورت ہے، ایک مجبوری ہے۔ غیر نصابی کتب پڑھنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں ہم پورا گھر سجا لیتے ہیں مہنگی مہنگی اشیا اور زرتعیش چیزوں سے مگر بدقسمتی سے اس گھر میں اکثر ایک بھی خانہ غیر نصابی کتاب کے لئے نہیں ہوتا۔ ایسے گھروں میں والدین شکایت کرتے ہیں کہ بچے مطالعہ نہیں کرتے۔ اگر آپ بچوں کو صرف اعلی نمبروں اور نوکریوں تک کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام نصاب سے کافی حد تک ہو جائے گا۔ مگر اگر آپ ان کو زندگی میں شخصیت اور رتبے کے اعلی ترین مقام پر پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے غیر نصابی مطالعہ کی عادت ڈالنا ہو گی۔ پھر چاہے وہ کہانیاں ہوں کہ بچوں کی نظمیں۔ چھوٹی عمر کے بچوں کو آپ انسائکلو پیڈیا، اسلامی فق، اور فلسفہ نہیں پڑھا سکتے۔ پڑھنے کی طرف راغب کرنے کے لئے ان کو کہانیوں کی طرف متوجہ کرنا پڑے گا۔ ایک خاص عمر اور شعور کے بعد وہ خودبخود اپنے پسندیدہ موضوعات کی طرف متوجہ ہوتے رہیں گے۔
دوسری طرف اگر آپ کتاب کی خاطر ضروری اشیا قربان کر کے کتاب خرید لیتے ہیں تو آپ کو اپنے بچوں کو مطالعہ سکھانے کے لئے اور کسی بھی کوشش کی ضرورت نہیں۔ آپ کے بچے خودبخود مطالعہ میں جلد آپ کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔
اب اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بچے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے جادو میں پھنس چکے ہیں، کتاب کی طرف راغب نہیں ہو پاتے تو بھی فکر کی کوئی بات نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجیٹل میڈیا نصابی تعلیم دینے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کتابیں ای ریڈر کی صورت میں پڑھائی جا رہیں ہیں، اسکولز کے نصاب میں ٹیبلٹس شامل ہو چکیں جن کا سب سے بنیادی مقصد یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ترغیبات کا مقابلہ کر کے کس طرح اپنے مطلب اور مفاد کا علم حاصل کیا جائے!
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان جس چیز میں دلچسپی لیتا ہے اسی سے متعلقہ مواد ہمیشہ سامنے آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دوستوں کی بجائے بلاگرز، رائٹرز، اخبارات، میگزین اور کتابوں کو فالو کریں آپ کے سامنے ہر وقت ایک سے بڑھ کر ایک نئی تحریر منتظر ہو گی۔
ڈیجیٹل ریڈرز ڈاﺅن لوڈ کیجیے، بچوں کو ای ریڈر پر کتابیں پڑھنے یا سننے کی سہولت دیں، یہ وہ کارآمد سہولت ہے جو اکثر اسکولز میں بھی نہیں ملتی۔ جب بچہ ریڈر پر کتاب سنتا ہے تو اس کے کئی فوائد ہیں۔ اس کی آنکھوں پر بوجھ نہیں پڑتا چنانچہ بینائی کو کوئی خطرہ نہیں، سننے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، انگلش الفاظ سو فی صد صحیح آواز اور انداز سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ زبان کی صحیح انداز اور تلفظ کے ساتھ ادائیگی کا علم آپ کو پاکستان کے مہنگے سے مہنگے انگلش اسکول میں بھی مشکل سے ملے گا۔
سکربڈ scribd یا کسی بھی ای ریڈر کی سبسکرپشن ایک لائبریری کارڈ کی طرح ہے جو ڈھیروں ڈھیر کتابیں خریدنے کی زحمت سے سستی ہے۔ بدقسمتی سے ترقی پذیر معاشروں کی طرح اردو زبان کے ای ریڈر ابھی مہیا نہیں جس طرح انگلش قوم نے اپنے بچوں کو ای کتابوں سے مسلح کر دیا ہے۔ اگر آپ کے بچے انگلش پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں تو ان کی زبان اور شعور دونوں کے نکھار کے لئے ای بکس سے زیادہ اور کچھ بھی بہتر نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم اپنے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مقبول ترین وزیر فواد چودھری سے درخواست بھی کریں گے کہ خدارا کچھ کرم اردو پر بھی کر جائیں اور اپنی موجودگی میں اس قوم کو کچھ اردو ای ریڈرز اور اردو ڈیجیٹل لائبریری کے تحائف دے دیں!
اس سلسلے میں ہم آپ سے بھی گزارش کریں گے کہ اس مطالبے کے لئے آواز اٹھائیں۔ اردو ای ریڈرز اور اردو ڈیجیٹل لائبریری کا قیام ہمارے نوجوانوں کی زندگی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا جو تمام تر نوجوانوں کو کتاب اور علم تک ان کی زبان میں رسائی دے گا۔ اور ان کے قیام کی کوشش ایک بڑی آبادی کو گھر بیٹھے روزگار بھی فراہم کر سکتی ہے۔
ثابت ہوا مسئلہ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا میں نہیں مسئلہ دلچسپی میں ہے اور اپنی دلچسپی کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے میں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ صرف وقت کے ضیاع کا ایک ذریعہ بن کر رہ گیا ہے شاید اس لئے کہ ہمیں اس کے استعمال کی تربیت نہیں دی گئی اور بچوں بڑوں سمیت ایک بڑی قوم صرف ترغیبات میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ آپ اپنے بچوں کو ان ترغیبات سے نمٹ کر آگے نکلنا سکھائیں آپ کے بچوں کو آکسفورڈ ہارورڈ یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وہ اپنے گھر میں رہ کر دنیا بھر کی مہارت، علم اور ہنر سیکھ سکتے ہیں۔ اور بدلتے ہوئے حالات اور بدلتی ہوئی دنیا میں یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ آپ کے بچے ٹیکنالوجی کے عقلمندانہ استعمال سے واقف ہوں۔


































