امام جعفر صادق ؑ نے اپنے آبائے طاہرین ؑ کی سند سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت علی ؑ کوفہ جارہے تھے کہ راستے میں ایک ذمی ( یہودی یا نصرانی) ان کا ہم سفر ہوا۔ کچھ دیر تک دونوں باتیں کرتے ہوئے ایک ساتھ چلتے رہے۔ اس ذمی نے کوفہ کے علاوہ کہیں اور جانا تھا لہٰذا اس نے اپنا راستہ تبدیل کیا تو امیر المومنین ؑ بھی اس کے راستے پر چلنے لگے۔
اس نے کہا: آپ ؑ نے تو کہا تھا کہ آپ ؑکو کوفہ جانا ہے۔ پھر آپؑ نے کوفہ کا راستہ چھوڑ کر میرے ساتھ دوسرا راستہ کیوں اپنا لیا؟
آپ ؑنے فرمایا: میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے کیونکہ تو میرا رفیق سفر تھا اور رفیق سفر کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں اور ہمارے پیغمبر اکرم نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جب تمہارا رفیق سفر تم سے جدا ہو تو اس کے ساتھ چند قدم چل کر اسے الوداع کہو۔
جب ذمی نے یہ سنا تو کہا: کیا واقعی آپؑ کے پیغمبر کی یہی تعلیم ہے؟
آپ ؑنے فرمایا: جی ہاں ! ہمارے پیغمبر کی یہی تعلیم ہے۔
ذمی نے کہا: جس دین کی تعلیمات اتنی بلند و بالا ہوں وہ دین لائق اتباع ہے اور میں آپؑ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں آپؑ کا دین اختیار کررہا ہوں۔ پھر اس نے آپؑ سے آپؑ کا نام و نسب دریافت کیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ آپؑ ہی خلیفہ المسلمین ہیں تو اس نے آپؑ کے ہاتھ پر کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔(اصول کافی مترجم،ج3، ص502)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ذمی امیر المومنین ؑ کی تواضع کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا اور آپؑ کی تواضع ایک شخص کے لئے ہدایت کا ذریعہ ثابت ہوئی اور یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر ہمسفر کا ایک دوسرے پر حق رفاقت ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں ہے اور اسی طرح سے والدین کی اطاعت واجب ہے اس میں بھی مسلم و غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں ہے۔
والدین کا مذہب کچھ بھی کیوں نہ ہو ان کا ادب اور ان کے حقوق کی ادائیگی بہت ضروری ہے۔
اسی طرح سے ایک ہمسائے کے دوسرے ہمسائے پر حقوق ہیں اس میں بھی مذہب و ملت کی کوئی تفریق نہیں ہے۔
اپنا سودا سلف اٹھانا
امام جعفر صادق ؑ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنے اہل و عیال کے لئے سودا اٹھایا ہوا تھا۔ جب اس نے آپؑ کو دیکھا تو وہ شرمندگی سی محسوس کرنے لگا۔
امام ؑ نے فرمایا: بندہ¿ خدا! بھلا اس میں شرمندگی کی کون سی بات ہے۔ تو نے اپنے اہل و عیال کے لئے ضروریات زندگی کی اشیاءخریدی ہیں اور انہیں اٹھا کر اپنے گھر جارہا ہے۔ خدا کی قسم ! اگر اہل مدینہ اعتراض نہ کرتے تو میں بھی سودا سلف خرید کر خود اٹھا کر اپنے گھر لے جاتا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار سے لوازم زندگی خرید کرنا اور خود اٹھاکر گھر لے جانا ہر گز معیوب نہیں۔ اس سے انسان کی تواضع میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک اور روایت میں اس کا حکم دیا گیا ہے اور امام ؑ نے اہل مدینہ کی روش پر افسوس کیا کہ اگر وہ اسے معیوب نہ سمجھتے تو آپؑ خود بھی ایسا ہی کرتے۔
لباس میں تواضع
آئمہ ؑعام طور پر کم قیمت لباس پہنا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس سے تواضع میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ زمانہ کے حالات کو بھی بعض اوقات مد نظر رکھتے تھے۔
کشف الغمہ میں مرقوم ہے کہ سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ امام جعفر صادق ؑ کو دیکھا کہ انہوں نے قیمتی لباس پہنا ہوا تھا تو میں نے ازراہ تعجب ان کی طرف دیکھا۔
امام ؑنے مجھے دیکھ کر فرمایا: سفیان ثوری! تو اتنے تعجب سے مجھے کیوں دیکھ رہا ہے شاید تو میرے اس لباس کی وجہ سے مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا ہے؟
(سفیان ثوری) نے کہا: فرزند رسول ! آپ ؑنے جو لباس پہنا ہوا تھا یہ آپؑ کے بزرگوں کا لباس تو نہیں تھا۔
امام ؑ نے فرمایا: وہ زمانہ تنگی اور مشکلات کا زمانہ تھا جبکہ یہ دور فراخی اور آسانی کا دور ہے۔ پھر آپ ؑنے قیمتی لباس ہٹایا تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اندر کھردرا اورموٹا لباس پہنا ہوا تھا اور فرمایا:
ہم نے لوگوں کو دکھانے کی غرض سے اچھا لباس پہنا ہے اور اپنے خدا کے لئے ہم نے موٹا اور کھردرا لباس پہنا ہوا ہے اور میں نے جو لباس خدا کے لئے پہنا ہے اسے میں نے پوشیدہ رکھا ہے اور جو تمہارے لئے پہنا ہے اسے ظاہر کیا ہوا ہے۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- امام علی ؑ اور تواضع
امام علی ؑ اور تواضع
-
Ilyas - مئی 14, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 6
- 0 minute read


































