
غزہ: حماس نے اسرائیل کے نئے قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستی کی بدترین شکل قرار دیا ہے۔ حماس نے کہا کہ اسرائیلی قانون فلسطینیوں کی اپنی زمین پر حق کے خلاف ہے اور اس کا مقصد ان کی زبردستی بے دخلی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے بھی قانون کو نسل پرستی کی بدترین شکل قرار دیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین قدورا فاریس نے کہاہےکہ یہ ایک غیر منصفانہ اور نسل پرستانہ قانون ہے جس کا مقصد اس کے آبائی باشندوں کی زمین کو خالی کرنا اور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالنا ہے۔


































