
تحریر: سید تنویر حیدر
”یوم القدس“ ماہِ رمضان کے آخری جمعة المبارک کو پوری دنیا میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس روز دنیا کے تمام حق پرست عوام، دنیا کے گوش و کنار میں سرگرم آزادی کی تحریکوں اور خصوصاً فلسطین کے ستم رسیدہ عوام کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کرتے ہیں، نیز قبلہء اول پر ناجاٸز طور پر قابض اسراٸیلی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ رہبرِ مستضعفینِ جہان حضرت امام خمینی نے 13 رمضان 1399 ہجری قمری کو اپنے ایک پیغام میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کے دن کو ”یوم القدس“ کے نام سے موسوم فرمایا۔ اپنے اس آفاقی پیغام میں رہبرِ انقلابِ اسلامی نے تمام عالمِ اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”میں عرصہء دراز سے تمام مسلمانوں کو غاصب اسراٸیل کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں۔ آج اس حکومت نے ہمارے فلسطینی بھاٸیوں پر اپنے حملوں کو شدید کر دیا ہے۔ خاص طور پر جنوبی لبنان میں وہ فلسطینی مجاہدین کے خاتمے کے لیے ان کے گھروں پر بمباری کر رہی ہے۔ میں پورے عالمِ اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس غاصب حکومت اور اس کے حامیوں کے ہاتھ کاٹنے کے لیے باہم متحد ہو جاٸیں۔ میں تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کے دن کو، جو ایامِ قدر میں سے بھی ہے اور فلسطینی عوام کی تقدیر کو واضح کرنے کا دن بھی ہوسکتا ہے، ”یوم القدس“ کے عنوان سے منتخب کریں اور اس دن بین الاقومی سطح پر ان مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کریں۔ خدا سے دعا گو ہوں کہ وہ مسلمانوں کو اہلِ کفر پر کامیابی عطا فرمائے۔“
امام خمینی کے نزدیک ارضِ فلسطین کی آزادی کی منزل تک رساٸی صرف اسلام کا دامن تھام کر ہی ہوسکتی ہے۔ جب یاسر عرفات اور اس کی جماعت ”پی ایل او“ کو 1982ء میں لبنان میں اسراٸیل کے ہاتھوں شکست ہوٸی اور اس کے نتیجے میں انہیں لبنان سے انخلا کرنا پڑا تو اس وقت امام خمینی نے یاسر عرفات کو مشورہ دیا کہ اگر آپ اسراٸیل کے مقابلے میں شکست کی ذلت سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی جدوجہد کسی خاص علاقے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے لیے ہو۔ اپنے اس نقطہء نظر کی وضاحت ایک اور مقام پر امام خمینی یوں کرتے ہیں: ”جب تک ہم اسلام کی طرف لوٹ کر نہیں آتے، وہ اسلام جو رسول اللہ کا اسلام ہے، ہمارے مساٸل اپنی جگہ پر موجود رہیں گے۔ ہم فلسطین، افغانستان اور دیگر مقامات کے مساٸل حل نہیں کرسکیں گے۔ قوموں کو اسلام کی طرف لوٹنا چاہیئے۔ اگر حکومتیں بھی اپنی عوام کی طرف لوٹ آٸیں تو یہ کوٸی مشکل امر نہیں ہے اور اگر حکومتیں ایسا نہیں کرتیں تو پھر ملتوں کو چاہیئے کہ وہ اپنا حساب کتاب ان حکومتوں سے جدا کر لیں اور ان کے ساتھ وہی کچھ کریں، جو ایرانی قوم نے اپنی حکومت (شاہ کی حکومت) کے ساتھ کیا، تاکہ ان کے مساٸل حل ہوسکیں۔“
امام خمینی کا یہ نظریہ دراصل اسلامِ نابِ محمدی کا نظریہ ہے اور یہی وہ فتح کی کلید ہے، جو اسراٸیل کے خلاف جدوجہد میں کامیابی کے دروازے کھولتی ہے۔ لبنان کی مقاومتی تحریک ”حزب اللہ“ نے امام خمینی کے اسی نظریئے کو اپنی جماعت کا اعلامیہ بنایا اور اپنے لشکر کو اللہ کا لشکر قرار دیا اور ”فاِن حِزب اللہِ ھُمُ الغالِبون“ کے وعدہء الہیٰ پر یقینِ کامل رکھتے ہوئے اسراٸیل جیسی خودسر طاقت کو شکست و رسواٸی سے دوچار کرکے اور اس کے وجود پر کاری ضرب لگا کر، اس کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر کر دی۔ آج اسراٸیل کی اس کمزور حیثیت کو اسراٸیلی حکومت کے اعلیٰ عہدے دار بھی تسلیم کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف امام خمینی کے دامنِ اسلام سے وابستگی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے آج فلسطین کی جہادی اور مقاومتی قوتیں اسراٸیل کے مقابلے میں اپنی نئی حکمتِ عملی کے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں اور حزب اللہ کی طرز پر اپنا مقاومتی محاذ تشکیل دینے کی کوشش میں ہیں۔
فلسطینیوں کے اس نئے طرزِ جہاد کے مقابلے میں اسراٸیل بھی اپنے تمام آتش و آہن کے ساتھ میدان میں کود پڑا ہے، لیکن اہلِ نظر خوب جانتے ہیں کہ اسراٸیل کے ظلم کی یہ انتہاء اس کے خاتمے کی ابتداء ہے۔ حال ہی میں امام خمینی کے وارث امام خامنہ ای نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا ہے کہ میں نے کچھ عرصہ قبل یہ کہا تھا کہ اسراٸیل آٸندہ پچیس سال سے زاٸد فلسطین پر اپنا ناجاٸز تسلط برقرار نہ رکھ پائے گا، لیکن آج یوں لگتا ہے کہ اسراٸیل کو خود اس سے پہلے ہی ارضِ فلسطین سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے کی جلدی ہے۔ بقولِ شاعر:
خاک صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغِ بیداد پہ یا لاشہء بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر لدھیانوی


































