Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

یمن، نئے عالمی نظام کی تشکیل کی راہ پر

تجزیہ: حسن عابدینی

عاشق رسول حضرت اویس قرنی کے پیروکار آہستہ آہستہ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ "کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللَّه” دنیا کے لوگوں کے سامنے عملی طور پر نمایاں ہو رہا ہے۔ مغربی، صہیونی اور عرب شرپسند اتحاد، جس کا مجموعی دفاعی بجٹ دنیا کی تقریباً 75 فیصد افواج کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے، ایک دہائی سے زائد عرصے سے یمن کے عوام کو خشکی، سمندر اور فضا سے محاصرے میں لیے ہوئے ہے، لیکن وہ مظلوم یمنی عوام کی قوتِ ارادی کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

یمنی فوج نے المخا بندرگاہ کو آزاد کرا کے دنیا کو حیران کر دیا۔ یمنی جنگجوؤں نے المخا سے باب المندب کے دہانے پر بصری اور ریڈار سے نگرانی کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے، جو وہاں سے صرف 75 سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ باب المندب آبنائے میں آمدورفت پر نظر رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد یمنی مسلح افواج نے بین الاقوامی تجارت کی اس اہم گزرگاہ میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کر لیا ہے۔ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ یمنی اب طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے بغیر بھی تیز رفتار کشتیوں، بحری جہاز شکن میزائلوں اور ساحلی بارودی سرنگوں کے ذریعے باب المندب پر مؤثر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

باب المندب پر یمنی کنٹرول، آبنائے ہرمز میں ایران کے مؤثر انتظام کے بعد، مزاحمتی محور کے لیے دوسرا ایسا اہم دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے جو توانائی اور عالمی تجارت کی اہم گزرگاہوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔ یہ صورتِ حال مزاحمتی محور کے درمیان تزویراتی گہرائی اور مشترکہ بازدار قوت کو مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرتی ہے؛ ایک ایسا مزاحمتی محور جس کا اثر تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط جغرافیے تک پھیلا ہوا ہے۔ یمن میں رونما ہونے والی نئی تبدیلیوں کے بعد مزاحمتی قوتیں مقبوضہ ایلات کی بحری ناکہ بندی کو مزید مکمل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہیں اور اسرائیلی حکومت کو مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی ضروریات کی ترسیل کے لیے جنوبی افریقہ کے ساحل پر واقع راسِ امیدِ نیک (Cape of Good Hope) کے راستے پر انحصار کرے۔ اس راستے سے سامان پہنچنے میں مزید 10 سے 14 دن لگ سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیلی فریق کے لیے نقل و حمل کے اخراجات اور بحری بیمے کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ المخا کی آزادی کا اثر سعودی عرب پر بھی پڑے گا، جو یمن کا دیرینہ حریف ہے، کیونکہ جدہ، جازان اور ینبع کی بندرگاہیں یمنی جنگجوؤں کی آسان زد میں آ سکتی ہیں۔ ینبع کی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا جانا، جسے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، ابتدائی مرحلے ہی میں سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے، حتیٰ کہ مختصر مدت میں بھی، سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل برآمدات میں کمی سے آمدنی کم ہوگی، جس کے نتیجے میں ملک کے بلند حوصلہ اقتصادی منصوبے، خصوصاً نیوم اور ویژن 2030 جیسے منصوبے، نئے چیلنجز سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

علاقائی سطح پر ایک نیا نظام آہستہ آہستہ تشکیل پا رہا ہے، جس میں امریکہ کی سربراہی میں سرحدوں سے ماورا مداخلت کرنے والی طاقتیں اور ان سے وابستہ حکومتیں فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکیں گی۔ مقامی صلاحیتوں اور داخلی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے خود انحصار سکیورٹی ہی مغربی ایشیا پر مسلط کیے گئے بحرانوں سے نکلنے کا راستہ ہے؛ وہ خطہ جسے عالمی امن و سلامتی کا مرکز اور استحکام کا اہم ستون بھی سمجھا جاتا ہے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب یمن کے عوام اللہ کی راہ میں اپنی مزاحمت اور جہاد کا صلہ حاصل کریں گے اور دنیا کے لیے ایک مثال بن جائیں گے کہ مزاحمت کی قیمت سمجھوتے سے کم ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular