
عورت اسلامی اور مغربی ثقافت کی نظر میں
- مغربی تہذیب نے عورت کو اسٹیج پر گانے کی اجازت دی*
جبکہ اللّٰه تعالیٰ نے اسےاذان اور اقامت کہنے سےروک دیا تاکہ اس کی آواز کی نرمی اور عفت کو محفوظ رکھی جا سکے۔ کافروں نے اسے اسٹیج پر اداکاری کی زینت بنایا جبکہ اللّٰه تعالیٰ نے ان پر جمعہ کی نماز یا با جماعت نماز بھی فرض نہیں کی تاکہ عورت کی عزت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ بے شرموں نے عورت کو اولمپکس اور مقابلوں کا چیمپئن بنایا۔ جبکہ اللّٰه تعالٰی نے اسےصفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے سے روک دیا ۔۔۔۔
تاکہ عصمت وحیا کو محفوظ رکھا جا سکے۔ انہیں لمبے سفروں اور تقریبات پر بغیر محافظ کےباہر نکالا۔۔۔۔
جبکہ ۔۔۔۔
اللّٰه تعالٰی نے عورت کی عفت وعصمت کو برقرار رکھنے کیلئے ۔۔۔
عورت سے اسلام کے ستونوں میں سےایک ستون ( حج ) کو گرا دیا ۔۔۔
جب عورت کا کوئی محرم موجود نہ ہو۔ وہ عورت کو کھیل دیکھنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اسٹیڈیم میں لے گئے۔
اللّٰه تعالیٰ نے عورت کو دین کی حمایت (جہاد) کیلئے بھی نکلنے سے منع کیا،
تاکہ اسکی نسوانیت اور عفت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
وہ عورت کو گھر سےنکال کر شاہراہوں میں لے گئے ۔۔۔
عورت کی خوبصورتی کو مزید ظاہر کرنے کیلئے میک اپ کو اس پر انڈیل دیا۔۔۔۔۔
جبکہ ۔۔۔۔
اللّٰه تعالٰی نے اسے پازیب پہننے سےمنع کیا۔۔۔۔
تاکہ
اس پازیب کی آواز سے ،
مرد ، عورت کے پوشیدہ حسن کے تصور تک نہ پہنچ سکے۔
اہل مغرب کے وحشی درندے ۔۔۔۔
عورت کی آزادی ، بالکل بھی نہیں چاہتے۔۔۔۔
بلکہ وہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں ۔۔۔۔
اور اللّٰه تم پر اپنی رحمت فرمانا چاہتا ہے ۔۔۔
اور جو لوگ خواہشات وشہوات کی پیروی کر رہےہیں ،
وہ چاہتےہیں کہ۔۔۔
تم سیدھی راہ سے بہت دور ہو جاؤ۔


































