
بیروت : حزب اللہ کے اعلیٰ رہنما شیخ علی جابر نے کہا ہے کہ مقاومت اسلامی نے صیہونیوں کے ساتھ جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ 1982 میں صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کے بعد سے اسلامی مقاومت روز بروز طاقتور ہوتی گئی جس کے نتیجے میں میدان جنگ میں صیہونیوں پر غلبہ پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے ایمان، عقیدہ اور ظلم کے ساتھ مقابلے کے جذبے کے ساتھ اپنے تجربات میں خاطر خواہ اضافہ کیا اسی وجہ سے شمالی سرحدوں پر دشمن کو شکست کا سامنا ہے۔ دشمن نے مجبور ہوکر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا بزدلانہ طریقہ اختیار کیا ہے تاہم ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کمانڈروں کی شہادت سے مقاومت کا راستہ نہیں رکے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جو کہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اگر حالات کنٹرول سے باہر ہوجائیں تو وسیع جنگ چھڑے گی۔ اگرچہ صیہونی حکومت کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا امکان کم ہے تاہم صیہونی شکست کی تلافی کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔ غزہ میں جارحیت کی ناکامی کے بعد جنون آمیز اقدام کرسکتے ہیں۔


































