
- میرے بچے آپ لگتا ہے بڑے ہو گئے ہیں، بڑے اہم اہم سوال پوچھ لگے ہیں۔
میں چند مثالوں کے ذریعے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ پھول سے ہمیشہ خوشبو کیوں آتی ہے، تو کیا جواب دیں گے؟ اگر پوچھے کہ سورج سے روشنی کیوں آتی ہے اور کیوں پوری دنیا کو روشن کرتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ بارش کیوں بنجر زمین کو آباد کر دیتی ہے یا بہار میں کیوں تمام پودے، درخت اور گھاس وغیرہ سرسبز ہو جاتے ہیں؟ آپ یقنا ان سوالات کا جواب دیں گے کہ پھول کا کام ہی خوشبو دینا ہے، سورج کا کام ہی روشنی دینا ہے اسی طرح بارش کا کام ہی سیراب کرنا ہے۔ بابا: آپ کے سوالوں کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے؟*
جی یہ ہوئی نہ بات، آپ آہستہ آہستہ جواب کے نزدیک ہو رہے ہیں۔ اوپر والے سوالوں کا جواب آپ کے سوال کے جواب سے ملتا جلتا ہے۔
جس طرح پھول کا کام خوشبو پھیلانا، سورج کا کام چمکنا اور بارش کا کام سیراب کرنا ہے اسی طرح خدا نے بھی انسانوں کو خلق کیا اور انسان خدا کی دی ہوئی نعمات سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ بھی خدا کا لطف و کرم ہے اور اس سے خدا کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ وہ خدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں وہ بہت مہربان، رحیم اور کریم ہے۔ کریم پروردگار کا کام ہی کریمی ہے۔ خدا رازق، رحیم اور مہمان نواز میزبان کی طرح ہے جس نے مختلف چیزوں سے دسترخواں سجایا ہوا ہے اور ہمیں مدعو کیا ہے۔ ہمیں خلق کرنے سے خدا کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ہدف بخشش و عطا ہے جیسا کہ قران میں بھی آیا ہے: اور میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔ میرے بیٹے، اس بات پر توجہ کریں کہ خدا کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں بلکہ خداوند عالم یہ چاہتا ہے کہ ہم دنیا و آخرت میں خوش بخت اور سعادت مند ہوں۔ یہ خوشبختی اور سعادت اللہ کی بات ماننے پر منحصر ہے۔ یاد رکھو عبادت صرف اور صرف نماز روزے کا نام نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کو الہی اہداف تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا نام ہے۔


































