
تحریر: سید رضی عمادی
سعودی عرب اور یمن نے جہاں جنگ کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، وہیں ریاض پر امریکی دباؤ، جنگ کے خاتمے کے اعلان میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سعودی وفد اپریل کے وسط میں یمن کے دارالحکومت صنعا پہنچا تھا۔ 2015ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی وفد کا یمن کا یہ پہلا دورہ تھا۔ سعودی وفد کا صنعاء کا دورہ ایسی حالت میں کیا گیا، جب سعودی عرب انصار اللہ اور صنعاء میں مقیم حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی آمادہ نہیں تھا۔ لیکن اب یہ دورہ گویا صنعاء میں مقیم انصاراللہ حکومت کو ریاض کی طرف سے تسلیم کیا جانا تھا۔ سعودی وفد کے ساتھ ساتھ عمانی وفد نے بھی یمن کا دورہ کیا۔ ان دونوں وفود کے بیک وقت دورے سے جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کی سنجیدگی ظاہر ہوئی۔ ادھر عمانی وفد نے بھی سعودی اور یمنی فریقین دونوں کو اعتماد میں لیا تھا۔ اس وقت فریقین کا عمانی وفد پر مکمل اعتماد ہے۔
مغربی ایشیائی مسائل کے تجزیہ کار شیرین العادیمی نے لکھا ہے کہ سعودی وفد کا دورہ، جس کا اہم موڑ یمن سے مہدی المشاط اور سعودی عرب سے محمد الجابر کا باہمی مصافحہ تھا، جو طویل غیر معمولی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسی جنگ اور محاصرہ جس میں اب تک 375,000 سے زیادہ یمنی ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں لوگ بھوک کا شکار ہوچکے ہیں۔ اگرچہ پہلے مرحلے میں اہم سمجھوتہ طے پایا اور قیدیوں کی رہائی کو معاہدے کی ایک شق کے طور پر نافذ کیا گیا، لیکن اس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا حتمی معاہدہ ابھی تک حاصل نہیں ہوا۔ اس معاہدے میں رکاوٹ کی بڑی وجہ امریکہ کی رکاوٹ اور دباؤ ہے۔ واشنگٹن جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے سے ناخوش ہے اور اسے اپنے مفادات کے مطابق نہیں سمجھتا، سعودی عرب کی حکومت پر یمن کے ساتھ معاہدے کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن علی القہوم نے اس بات پر زور دیا کہ امن کی طرف بڑھنا ایک درست اور راست موقف ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کو امریکی جھنڈے سے نکل جانا چاہیئے۔ سعودی عرب کو یمن کی جنگ اور ناکہ بندی جاری رکھنے کے لیے مغرب کے دباؤ کو پسپا کرنا چاہیئے۔ مغرب کا ہدف سعودی عرب کو یمنی دلدل میں پھنسانا اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دشمنی کرنا ہے، جس کے پیچھے واضح استعماری مقاصد ہیں۔ یمن کی تحریک انصاراللہ کے سینیئر رکن "محمد البخیتی” نے بھی المیادین نیٹ ورک کے ساتھ انٹرویو میں تاکید کی کہ امریکہ اور انگلستان یمن میں امن کا حصول نہیں چاہتے اور جب بھی انہیں لگتا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، وہ ان پیش رفتوں کو نتیجہ خیز ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو ایک مکمل فوجی آپشن میز پر ہے۔
امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی مخالفت کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن ایک اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اس جنگ کا خاتمہ امریکہ کی شرکت کے بغیر ہو اور چین یا اسلامی جمہوریہ ایران کو جنگ کے خاتمے کا کریڈٹ مل جائے۔ اس وقت ایران و چین جیسے ممالک جنگ کو ختم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ ادھر واشنگٹن کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ کے خاتمے سے مغربی ایشیائی خطے میں مزاحمت کے بلاک کو فائدہ پہنچے گا اور صیہونی حکومت کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ اس بنا پر امریکا سعودی یمن جنگ کے خاتمے کے معاہدے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور ریاض حکومت پر مذاکرات کو روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کر رہا ہے۔


































