Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

صنعا ایئرپورٹ کو تباہ کرنے سے اسرائیل کو کیا فوجی فائدہ حاصل ہوا؟

تحریر: ثقلین امام واسطی

6 مئی 2025ء کو اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع بین الاقوامی ایئرپورٹ پر شدید فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی رن وے، روانگی ہال اور تین سویلین طیارے تباہ ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے 4 مئی کو بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا، جس میں آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ صنعا ایئرپورٹ کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے اور یہ کہ حوثی اس ایئرپورٹ کو ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ تاہم، حوثی فورسز نے اس حملے کے باوجود بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں اور اسرائیلی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں۔ اسی لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کی تباہ کن بمباری کرکے اسرائیل کو کیا اسٹریٹیجک فائدہ ہوا ہے۔؟

حوثی فورسز ایک غیر روایتی، غیر مرکزیت رکھنے والی عسکری تنظیم ہے، جو موبائل لانچرز، چھپی ہوئی سپلائی لائنز اور پہاڑی علاقوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ ان کی حملہ آور صلاحیت کسی ایئرپورٹ یا روایتی فضائی اڈے پر انحصار نہیں کرتی۔ اس لیے، صنعا ایئرپورٹ پر حملہ حوثیوں کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ اسرائیل کا یہ حملہ زیادہ تر سیاسی پیغام رسانی یا علامتی بدلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو وارننگ دینا، داخلی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کرنا، یا اپنے “دھمکانے کی قوت” (deterrence) کو بحال کرنا ہوسکتا ہے۔ تاہم، حوثی بدستور میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ حملہ ان کی صلاحیتوں کو کمزور (degrade) کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مزید برآں، ایسے حملے حوثیوں کی سیاسی اور مقامی حمایت میں اضافہ کرسکتے ہیں اور ایرانی حمایت یافتہ مزید جدید ہتھیاروں مثلاً "ہائیپرسونک میزائلوں” کے استعمال کا جواز بن سکتے ہیں۔ اس وقت عالم عرب میں خصوصاً اور عالمِ اسلام میں عموماً حوثیوں کو فلسطینیوں کی عملی اور سب سے زیادہ کارگر حمایت کی وجہ سے ایک بڑے ہیرو کا مقام حاصل ہوچکا ہے، جو مسلمانوں کی کسی بھی طاقت کو حاصل نہیں ہے۔ صنعا ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملہ حوثیوں کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ حملہ زیادہ تر سیاسی اور علامتی نوعیت کا تھا، جس کا مقصد داخلی اور خارجی سطح پر پیغام رسانی تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں حوثیوں کی حملہ کرنے کی صلاحیت پر کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آیا ہے اور وہ بدستور اسرائیل اور اس سے منسلک مفادات کو ہدف بنا رہے ہیں۔

اس دوران امریکی بحری بیڑے ہیری ٹرومین کے عرشے سے ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر ڈوب گیا ہے، جو شاید حوثیوں کے حملے کا سبب نہ ہو، لیکن نفسیاتی طور پر ان کی دھاک بٹھاتا ہے۔ امریکہ کا یہ دوسرا طیارہ ہے، جو ہیری ٹرومین سے گر کر ڈوبا ہے، اس کے علاوہ ایک لڑاکا طیارہ اپنے ہی فرینڈلی فائر سے تباہ ہوگیا تھا۔ مزید یہ کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق، حوثیوں نے درجن بھر سے زیادہ امریکہ کے جدید ترین ڈرونز مار گرائے ہیں، جنھیں امریکہ بھی تسلیم کرچکا ہے۔ اس پس منظر میں اگر اسرائیل کی صنعا پر بھاری بمباری کا مقصد حوثیوں کو کمزور کرنا تھا، تو شاید اس نے غلط ہدف کا انتخاب کیا۔ غیر روایتی جنگ میں متحرک اور منتشر قوتوں کو روایتی تنصیبات پر حملوں سے محدود کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular