
تحریر: ثقلین امام واسطی
6 مئی 2025ء کو اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع بین الاقوامی ایئرپورٹ پر شدید فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی رن وے، روانگی ہال اور تین سویلین طیارے تباہ ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے 4 مئی کو بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا، جس میں آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ صنعا ایئرپورٹ کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے اور یہ کہ حوثی اس ایئرپورٹ کو ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ تاہم، حوثی فورسز نے اس حملے کے باوجود بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں اور اسرائیلی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں۔ اسی لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کی تباہ کن بمباری کرکے اسرائیل کو کیا اسٹریٹیجک فائدہ ہوا ہے۔؟
حوثی فورسز ایک غیر روایتی، غیر مرکزیت رکھنے والی عسکری تنظیم ہے، جو موبائل لانچرز، چھپی ہوئی سپلائی لائنز اور پہاڑی علاقوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ ان کی حملہ آور صلاحیت کسی ایئرپورٹ یا روایتی فضائی اڈے پر انحصار نہیں کرتی۔ اس لیے، صنعا ایئرپورٹ پر حملہ حوثیوں کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ اسرائیل کا یہ حملہ زیادہ تر سیاسی پیغام رسانی یا علامتی بدلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو وارننگ دینا، داخلی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کرنا، یا اپنے “دھمکانے کی قوت” (deterrence) کو بحال کرنا ہوسکتا ہے۔ تاہم، حوثی بدستور میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ حملہ ان کی صلاحیتوں کو کمزور (degrade) کرنے میں ناکام رہا ہے۔
مزید برآں، ایسے حملے حوثیوں کی سیاسی اور مقامی حمایت میں اضافہ کرسکتے ہیں اور ایرانی حمایت یافتہ مزید جدید ہتھیاروں مثلاً "ہائیپرسونک میزائلوں” کے استعمال کا جواز بن سکتے ہیں۔ اس وقت عالم عرب میں خصوصاً اور عالمِ اسلام میں عموماً حوثیوں کو فلسطینیوں کی عملی اور سب سے زیادہ کارگر حمایت کی وجہ سے ایک بڑے ہیرو کا مقام حاصل ہوچکا ہے، جو مسلمانوں کی کسی بھی طاقت کو حاصل نہیں ہے۔ صنعا ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملہ حوثیوں کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ حملہ زیادہ تر سیاسی اور علامتی نوعیت کا تھا، جس کا مقصد داخلی اور خارجی سطح پر پیغام رسانی تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں حوثیوں کی حملہ کرنے کی صلاحیت پر کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آیا ہے اور وہ بدستور اسرائیل اور اس سے منسلک مفادات کو ہدف بنا رہے ہیں۔
اس دوران امریکی بحری بیڑے ہیری ٹرومین کے عرشے سے ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر ڈوب گیا ہے، جو شاید حوثیوں کے حملے کا سبب نہ ہو، لیکن نفسیاتی طور پر ان کی دھاک بٹھاتا ہے۔ امریکہ کا یہ دوسرا طیارہ ہے، جو ہیری ٹرومین سے گر کر ڈوبا ہے، اس کے علاوہ ایک لڑاکا طیارہ اپنے ہی فرینڈلی فائر سے تباہ ہوگیا تھا۔ مزید یہ کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق، حوثیوں نے درجن بھر سے زیادہ امریکہ کے جدید ترین ڈرونز مار گرائے ہیں، جنھیں امریکہ بھی تسلیم کرچکا ہے۔ اس پس منظر میں اگر اسرائیل کی صنعا پر بھاری بمباری کا مقصد حوثیوں کو کمزور کرنا تھا، تو شاید اس نے غلط ہدف کا انتخاب کیا۔ غیر روایتی جنگ میں متحرک اور منتشر قوتوں کو روایتی تنصیبات پر حملوں سے محدود کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔


































