Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

مالی سال 24-2023ءکے وفاقی بجٹ میں نیا کیا ہے؟

خصوصی رپورٹ

حالیہ برسوں کے بیشتر بجٹوں کی طرح مالی سال 24-2023ء کا بجٹ بھی بڑھتے ہوئے قرض کی وجہ سے اخراجات کی مالی اعانت پر بھاری ہے یہاں تک کہ موجودہ اخراجات کا ایک بڑا حصہ (50 فیصد سے زیادہ) قرض کی ادائیگی پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس سال کے بجٹ کا نقطہ نظر نیا نہیں تھا تاہم کچھ ایسے اقدامات تھے جو منفرد ہیں۔ ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ حکومت رقم کی حد میں خاطر خواہ اضافہ کر رہی ہے جو ذرائع کے بارے میں سوال کئے بغیر بیرونِ ملک سے پاکستان بھیجی جاسکتی ہے۔ بجٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اس حد کو 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر (تقریباً 3 کروڑ روپے) کردیا جائے ساتھ ہی غیر واضح آمدنی/اثاثہ جات کی نوعیت اور ذرائع پوچھنے پر پابندی لگائی جائے۔

غالباً یہ اقدام ملک کے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینے کی کوشش ہے، جو اس وقت 4 ارب ڈالر سے بھی کم اور بمشکل ایک ماہ کی درآمدات کے لئے کافی ہیں۔ حکومت نے ڈیبٹ/کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈز کے ذریعے غیر رہائشیوں کو ادائیگی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں ایک سے 5 فیصد تک اضافے کی تجویز بھی پیش کی ہے کیونکہ اس سے ملک سے ڈالر کے اخراج کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ یہ اقدام اگر منظور ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام بین الاقوامی ای کامرس لین دین (ایمیزون، نیٹ فلکس وغیرہ) زیادہ مہنگے ہو جائیں گے۔ وزیر خزانہ کا تجویز کردہ ایک اور نیا اقدام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ایس ایم ایز کو بینکوں سے قرض حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

اپنی تقریر کے دوران اسحٰق ڈار نے کہا کہ مرکزی بینک کی ایک اسکیم نے ایس ایم ایز کو اپنے قرضوں کو 6 فیصد مارک اپ پر دوبارہ فنانس کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی چونکہ ایس ایم ایز کی اکثر کریڈٹ ہسٹری نہیں ہوتی اس لئے بینک انہیں قرض فراہم کرنے میں ہچکچاتے ہیں، جس کے تدارک کے لئے حکومت اس اسکیم کے تحت ایس ایم ایز کو دیئے گئے قرضوں پر 20 فیصد خطرہ مول لے گی۔ اس سال کے بجٹ میں غیر ملکی کمپنیوں (آئی ٹی خدمات برآمد کرنے) کے لئے کام کرنے والے پاکستانی فری لانسرز کو کاٹیج انڈسٹری کا درجہ دے کر آئی ٹی خدمات اور پیشہ ور افراد کی حوصلہ افزائی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کے نتیجے میں آزاد برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حکومت نے 13 سو سی سی سے اوپر کی ایشیائی ساخت کی پرانی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر مقررہ ڈیوٹی اور ٹیکس کی حدیں بھی ختم کر دی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جاپان اور چین سے ری فربشڈ شدہ 13 سو سی سی کاریں، جن کی پاکستان میں بڑی مارکیٹ ہے ممکنہ طور پر مزید مہنگی ہو جائیں گی البتہ چھوٹی کاریں جیسے میرا اور آلٹو، اس اقدام سے متاثر نہیں ہوں گی۔ اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لئے ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز، موبائل والٹس یا کیو آر اسکیننگ کے ذریعے ریسٹورنٹس میں ادائیگی پر حکومت نے ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی الیکٹرانک طریقے سے ادائیگی کا انتخاب کرتا ہے تو ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانا سستا ہوگا۔

حکومت کے سولرائزیشن اقدام کے مطابق بجٹ میں شمسی توانائی کی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس استثنیٰ میں انورٹرز، سولر پینلز اور بیٹریوں جیسی اہم اشیاء شامل ہیں، جو ملک میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ اس سے عام صارف کے لئے شمسی توانائی کو اپنانے کے اخراجات کم ہونے کا امکان ہے۔ بجٹ میں جن دیگر قابل ذکر اشیا پر کسٹم ڈیوٹی میں استثنیٰ یا سیلز ٹیکس میں ریلیف تجویز کیا گیا ہے ان میں:

1) ڈائپرز اور سینیٹری نیپکن کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ۔
2) شرمپس/جھینگے/ تجارتی فش فارمز اور ہیچریوں میں افزائش نسل کے لئے ان کے بچوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ۔
3) استعمال شدہ کپڑوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا خاتمہ۔
4) مانع حمل اور دیگر اشیاء پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی منظوری۔
5) غیر رہائشی سمندر پار پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر 2 فیصد حتمی ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ
6) بلڈر کے لئے ٹیکس کی ذمہ داری میں 10 فیصد یا 50 لاکھ روپے کی کمی، اس میں سے جو بھی کم ہو، اور اپنا گھر تعمیر کرنے والے فرد پر تین سال کے لئے 10 فیصد یا 10 لاکھ روپے کی کمی جو بھی کم ہو۔

اس کے برعکس کچھ ایسے اقدام ہیں جن سے عام آدمی کی جیب کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے

1) برانڈ ناموں یا ٹریڈ مارک کے تحت بلک میں فروخت ہونے والی خوردنی مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو واپس لینا۔
2) چمڑے اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات کا کاروبار کرنے والے پوائنٹ آف سیل خوردہ فروشوں کی جانب سے فراہم کردہ سپلائیز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں 12 فیصد سے 15 فیصد تک اضافہ۔
3) الیکٹرک پاور ٹرانسمیشن سروسز پر 15 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز۔
4) غیر فعال ٹیکس دہندگان کے لئے نقد رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ودہولڈنگ ٹیکس کا دوبارہ نفاذ۔
5) ڈیبٹ/کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈز کے ذریعے غیر مقیم افراد کو ادائیگی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں ایک سے 5 فیصد تک اضافہ، (غیر فعال ٹیکس دہندگان کے لئے دو فیصد سے 10 فیصد)۔
6) توانائی بچانے والے پنکھوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2 ہزار روپے فی پنکھا اور 20 فیصد قیمت پر انکینڈیسنٹ بلب لگانے کی تجویز ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular