
الماتی : وسطی ایشیا کے سب سے بڑے ملک میں فسادات کے بعد قازقستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران 164 افراد ہلاک اور 5 ہزار کو گرفتار کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ابتدائی تخمینوں کے مطابق ہلاکت خیز تشدد کے بعد املاک کو تقریباً 19 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ 100 سے زائد کاروباری اداروں اور بینکوں پر حملہ کیا گیا اور لوٹ مار کی گئی اور تقریباً 400 گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ وزارت صحت کے مطابق مرکزی شہر الماتی میں سب سے زیادہ تشدد ہوا جہاں 103 افراد ہلاک ہوئے، وزیر داخلہ ایرلان ترگمبائیف نے کہا کہ ملک کے تمام خطوں میں صورتحال مستحکم ہے، اس کے باوجود ملک میں امن بحال کرنے کی کوشش میں انسداد دہشت گردی آپریشن جاری ہے۔
دو جنوری کو شروع ہونے والے یہ مظاہرے حکومت اور سابق صدر نور سلطان نذربائیف کے خلاف ہو رہے ہیں جو تین دہائیوں تک قزاقستان کے صدر رہے اور اُنھیں اب بھی خاصے اثر و رسوخ کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں قازقستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں پر صدر قاسم جومارت توقایف نے وزیراعظم کا استعفیٰ لیکر کابینہ برطرف کر دی تھی۔


































