
ترکی کا ا دلب میں شدید ہزیمت کے بعد جنگ بندی معاہدہ، روس اور ترکی کی افواج مشترکہ پٹرولنگ کریں گی،معاہدہ لڑائی کے خاتمے کیلئے اہم بنیاد ثابت ہو گا،روسی صدر
ترک صدر شامی فوج کو پیچھے ہٹنے کا مطالبہ منوانے میں ناکام، شامی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف پیش قدمی،ادلب میں کئی مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا
دمشق/ماسکو(نیوزڈیسک) ترکی نے ا دلب میں شدید ہزیمت کے بعد روس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا جبکہ شہر کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے شامی فوج کی پیشقدمی جاری ہے، ترک حمایت یافتہ باغیوں اور شامی فورسز کے درمیان کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد ادلب میں ترکی اور روس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب ارودان نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں معاہدے پر دستخط کیے،معاہدے کے مطابق روس اور ترکی کی افواج مشترکہ پٹرولنگ کریں گی، ادلب کی اہم موٹروے ایم فور، جو حکومت کے زیر کنٹرول شہروں حلب اور لتاکیہ کو ملاتی ہے، پر شمال میں چھ کلومیٹر جبکہ جنوب میں بھی چھ کلومیٹر تک سیکیورٹی کی راہداری ہو گی،مذاکرات کے دوران اردوان اس بات کو منوانے میں ناکام رہے کہ جن علاقوں میں شامی فورسز نے حالیہ دنوں میں کنٹرول سنبھالا ہے وہ وہاں سے واپس چلی جائیں، ادلب میں لڑائی سے انسانی بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور اس سے روس اور ترکی کے درمیان براہ راست جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے،نئے معاہدے کے بعد روسی صدر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ معاہدہ لڑائی کے خاتمے کے لیے اہم بنیاد ثابت ہو گا۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شام کی جانب کیے جانے والے ہر حملے کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہے،ادھر شامی فوج کی ادلب اور دوسرے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پیش قدمی جاری ہے،شا می فوج نے کفرنبل میں معار موخص اور البریج کے مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، حلب میں جاری آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے راکٹس، مارٹر اور توپخانے کے گولے بنانے کی متعدد فیکٹریاں برآمد کر لی گئیں ہیں یہ فیکٹریاں کپڑا بننے اور رنگنے کے کارخانے تھے جن پر قبضہ کرنے کے بعد دہشت گردوں نے انہیں گولے، مارٹر گولے اور راکٹس بنانے کی فیکٹریز میں بدل دیا۔


































