
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
امریکی وزیر خارجہ بحرین آیا اور ایک میٹنگ کی، جس میں عرب ممالک نے شرکت کی تھی۔ اس میں یہ سازش تیار کی گئی کہ ساٹھ دنوں کے لیے ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول مان لیا گیا تو یہ ایک مثال بن جائے گا، جس سے ایران دستبردار نہیں ہوگا۔ اس لیے ہر صورت میں ایران کو اس سے روکا جائے۔ یوں امریکہ نے امارات، بحرین اور کویت وغیرہ سے کہا کہ تم لوگ عمانی سائیڈ سے اپنے جہاز گزارو، میں انہیں حفاظتی کور دوں گا۔ اگر ایران حملہ کرے گا تو اسے جواب دیا جائے گا اور امید یہ تھی کہ ایران حملہ نہیں کرے گا بلکہ اسے آنکھیں بند کرکے قبول کر لیا جائے گا۔ ایسا نہ ہونا تھا اور نہ ہی ہوا۔ ایرانی حکام اس سازش سے مکمل آگاہ تھے، جیسے ہی معاہدے کی خلاف ورزی شروع ہوئی، ایران نے وارننگز دیں، جب انہیں نظر انداز کیا گیا تو انہیں معاہدے کی پاسداری طاقت سے کروائی گئی۔ امریکی اعتماد پر جب جب ہرمز عبور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، ویسے ہی ان کے نقصانات بڑھ رہے ہیں اور ساتھ میں جنگ پھیلتی جا رہی ہے۔
کل رات پاسداران انقلاب نے ٹیلیگرام پر ایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ دو ٹینکروں نے ایران کے خطرے سے متعلق انتباہات کو نظرانداز کیا اور اپنے نیویگیشن سسٹمز بند کر دیئے اور بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔ پاسداران نے خلاف ورزی کرنے والے ٹینکروں کو ناکارہ بنا دیا۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ دشمن کے ساتھ تعاون کا نتیجہ صرف پچھتاوا، نقصان اور آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر کی صورت میں نکلے گا، جبکہ اس سے دنیا میں توانائی کا بحران بھی پیدا ہوگا۔ امریکہ کے فکری دسترخوان کے فیض یافتہ تجزیہ نگاروں کو آبنائے ہرمز بین الاقوامی راستہ نظر آرہا تھا اور جب اسلامی جمہوریہ ایران محض ایک فیصد حفاظتی ٹیکس کی بات کر ررہا تھا تو وہ انہیں کسی صورت میں قبول نہیں تھا۔
اس لیے پچھلے کچھ عرصے میں یہ سب آپ کو اسی بات کی تکرار کرتے نظر آئیں گے، گویا سارے مسئلہ کو حل کرنے کی ذمہ داری صرف ایران کی ہے۔ ایک حملہ آور قوت جس کے آنے سے پہلے آبنائے ہرمز مکمل کھلا تھا، اس کے خلاف کوئی کچھ نہیں بولے گا۔ خیر ہم سمجھتے تو ان میں سے کچھ تو عقل و شعور کے ساتھ ساتھ دیانتدار بھی ہوں گے، مگر ہماری غلط فہمی دور ہوگئی۔صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی اور ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی اسے فعال رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکہ ایک نئی پالیسی کے تحت خود کو آبنائے ہرمز کا محافظ قرار دے گا، جس میں ایرانی جہازوں یا ایران سے متعلقہ گاہکوں کی آمدورفت کو محدود کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے آزادانہ گزرگاہ برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے اس سمندری راستے کی حفاظت اور سکیورٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر مال بردار کارگو پر 20 فیصد معاوضہ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے نفاذ کا عمل فوری شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد میں منتظر تھا کہ یہ دانشور حضرات بین الاقوامی قانون کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے آواز بلند کریں گے اور اس امریکی ٹیکس کو جو وہ ایران کی سرزمین سے وصول کرنے کا اعلان کر رہا ہے، جگا ٹیکس قرار دیں گے، مگر مجھے افسوس ہوا، کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران (ٹول لینے میں) منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔
جناب عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان کے جواب میں ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکی صدر بالکل درست کہتے ہیں۔ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ اور پُرامن گزرگاہ فراہم کرتا ہے، اسے اس خدمت کا معاوضہ ملنا چاہیئے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم اس معاملے میں منصفانہ رویہ اختیار کریں گے، کیونکہ 20 فیصد (فیس) بہت زیادہ ہے۔ جناب عباس عراقچی نے بالکل درست بات کی کہ بیس فیصد کافی زیادہ ہے، اس لیے اسے کم رکھا جانا چاہیئے اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے، جو مفت میں دنیا کو پرامن گزر گاہ فری میں فراہم کر رہا تھا۔ اب انسانی بنیادوں پر مناسب فیس کی بات کر رہا ہے۔ ٹرمپ تو یہاں بھی دنیا کو لوٹنے کے بہانے بنا رہا ہے۔
عرب ممالک کے لیے ایک اور حکم نامہ آگیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے امریکی اقدامات کے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیئے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک محفوظ بحری گزرگاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے انہیں بھی آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے امریکی کارروائیوں کے اخراجات برداشت کرنے میں تعاون کرنا چاہیئے۔ ویسے امریکی دوستی کا مزا آگیا، ایک تو جو بھی عربوں سے تجارت کرے، وہ بیس فیصد فیس ہرمز پر امریکہ کو جگا ٹیکس دے اور ساتھ میں یہاں موجود فوجوں کے اخراجات بھی عرب ممالک کو ہی برداشت کرنے ہوں گے۔ امریکہ سے مزید دوستی کرو اور سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے لیے تیار رہو۔
ویسے عرب حکمرانوں کے لیے مفت مشورہ ہے، اگر وہ براہ راست اسلامی جمہوریہ ایران سے مذاکرات کر لیں اور امریکیوں کو خطے سے نکال دیں تو یہ ساری چیزیں اسلامی جمہوریہ ایران انہیں مفت یا انتہائی کم قیمت پر فراہم کرسکتا ہے۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ بولنے کی عادت ہے فرمایا: اگر ایران اس بات کا عہد کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا تو ہم ایران کو معاشی طور پر ترقی کرنے میں مدد دیں گے۔ جی بالکل ٹھیک ہوگیا، جناب صدر محترم ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب عباس عراقچی نے کہا: ذرا دیکھیں کہ شام، افغانستان اور عراق جیسے تمام ممالک، اسرائیل اور امریکہ پر اعتماد کرنے کے بعد کتنے خوشحال ہوگئے۔ ویسے یہ تو جناب عباس عراقچی صاحب کا چھکا ہے۔ امریکہ جہاں بھی گیا ہے، اس نے وہاں بستیوں کو برباد کیا ہے، ابو غریب سے لے گوانتانامو جیل تک ہر طرف انسانیت سوز مظالم ہی کیے ہیں۔


































