گن کلچر پر پابندی سے انکار،2019میں قتل عام کے 41واقعات میں 211ہلاکتیں،2017میں 38واقعات میں 224افراد مارے گئے،سروے رپورٹ
معاشرے میں پھیلا اشتعال اور مایوسی قتل عام کی وجہ،ٹرمپ کا عوام سے اصلاحات کا وعدہ مگر رائفل ایسوسی ایشنز کے سربراہ کے دباؤ پر یوٹرن لے لیا
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا اپنے ہی عوام کا مقتل بن گیا، گن کلچر کے باعث2019میں قتل عام کے ریکارڈ واقعات پیش آئے، امریکا میں قتلِ عام اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں قاتل کے علاوہ چار یا اس سے زائد افراد ہلاک ہو جائیں، یو ایس اے ٹو ڈے اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے مرتب کردہ ڈیٹابیس کے مطابق 2019میں قتل عام کے 41واقعات پیش آئے جس میں 211 افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے،اگست میں سب سے ہلاکت خیز واقعہ ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں پیش آیاجس میں 22 افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سے قبل مئی میں ورجینیا بیچ پر 12 افراد قتل ہوئے، اعداد و شمار میں ریاست کیلیفورنیا سرِفہرست رہی جس میں قتلِ عام کے آٹھ واقعات پیش آئے،2017میں بھی 38واقعات پیش آئے اس میں 224افراد ہلاک ہوئے،یہ سال ہلاکتوں کے لحاظ سے سرفہرست لیکن واقعات کے لحاظ سے 2019سے پیچھے رہا، انفرادی واقعات میں لوگوں کی ہلاکت کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے، قتل عام میں یہ اضافہ امریکی معاشرے میں پھیلے ’اشتعال اور مایوسی‘ سے بھرے وقت کی وجہ سے ہے،امریکی آئین میں شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، ایل پاسو واقعہ کے بعد ٹرمپ نے بندوق مالکان کا پس منظر جانچنے کے قانون بنانے کا وعدہ کیا لیکن گن کلچر میں اصلاحات مخالف طاقتور لابی کا حصہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو وین لاپیئرکی طویل فون کال پر ٹرمپ خاموشی سے اپنے وعدے سے دستبردار ہو گئے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- ٹرمپ کے دور میں امریکا اپنے ہی عوام کا مقتل…
ٹرمپ کے دور میں امریکا اپنے ہی عوام کا مقتل بن گیا
-
Ilyas - جنوری 3, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 111
- 0 minute read


































