
بیروت : حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے کہاہے کہ جب تک غزہ پر جارحیت نہیں روکی جاتی اور مکمل انخلاء نہیں کیا جاتا قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔لبنانی چینل المیادین کو انٹرویو میں اسامہ حمدان نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کے لیے کسی بھی سنجیدہ کوشش کا آغاز جنگ بندی سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حماس کے وفد کا ماسکو کا دورہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے ہماری کوششوں کا حصہ تھا۔ ہم نے روس، چین اور الجزائر سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر حملے کو ختم کرنے کے لیے کام کریں۔ اسامہ حمدان نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے تل ابیب کے حالیہ دورے کے بارے میں کہا کہ بلنکن کا پیغام اس سے مختلف نہیں ہے جو امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین نے پیش کیا تھا۔ وہ اسے صورتحال کو امریکی-اسرائیلی مفادات کے مطابق بدلنے کی کوشش کے طور پر دکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطینی عوام کے مفادات اور مطالبات کو پورا کرنے والی نئی تجاویز سامنے نہیں آئیں، حماس ان کو قبول نہیں کرے گی۔


































