
تحریر: عبدالباری عطوان
ٹرمپ مسقط میں امریکی معیشت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فلسطینی مصنف اور تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس ہفتے مسقط میں شروع ہونے والی "ارادے کی جنگ” میں کامیاب ہوا ہے اور اس نے کھیل میں امریکہ کے خلاف "گولڈن گول” کر دیا ہے۔ عطوان نے مذاکرات کی شکل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران مذاکرات کے بالواسطہ کرنے کا خواہاں تھا، جبکہ واشنگٹن نے براہ راست بات چیت پر اصرار کیا تھا۔ عطوان کے مطابق مذاکرات بالواسطہ طور پر منعقد ہوئے اور یہ دراصل امریکہ کی پہلی کھلی ناکامی ہے، خاص طور پر جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ درخواست نیتن یاہو کے لیے بھی غیر متوقع تھی۔
اس عرب تجزیہ کار کے مطابق امریکی وفد جس کی سربراہی ٹرمپ کے قریبی مشیر اسٹیو وِٹکاؤف کر رہے ہیں، عمان مذاکرات میں خالی ہاتھ اور کمزور پوزیشن سے داخل اور خارج ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 200 سے زائد ممالک اور اداروں پر محصولات عائد کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کی ناکامی کے بعد، امریکہ آج دنیا کا سب سے الگ تھلگ ملک ہے۔ یہاں تک کہ یورپ، جاپان اور جنوبی کوریا میں اس کے دیرینہ دوست بھی اس کے مخالفین میں شامل ہوگئے ہیں۔ رائی الیوم کے ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کی سربراہی عباس عراقچی نے کی، جو ایک تجربہ کار سفارت کار اور ایران کے وزیر خارجہ ہیں۔ انہوں نے جے سی پی او مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ مذاکرات کی تکنیک اور حکمت عملی سے بخوبی واقف ہیں۔ عطوان مزید لکھتے ہیں کہ ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو تسلیم نہیں کیا اور وہ امریکیوں پر تہران کی تمام شرائط مسلط کرنے میں کامیاب رہے۔” بات چیت ایٹمی پروگرام کے معاملات تک محدود رہی اور میزائل پروگرام، ڈرون یا مزاحمت کے بلاک کے ساتھ تعلقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
ٹرمپ کا خوف
عطوان کے مطابق، یہ ٹرمپ ہی تھے، جنہوں نے داخلی اور بین الاقوامی بحرانوں سے بچنے کے لئے ایران کے قریب آنے اور بات چیت کا راستہ منتخب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ اب نہ تو کوئی فوجی دھمکی دے سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر پڑتا ہے۔ بحری جہازوں، بی-52 طیاروں اور خلیج میں موجود جنگی جہازوں کی دھمکیوں سے نہ صرف ایران ڈرا نہیں بلکہ اس کے جواب میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور فوج کو مکمل طور پر تیار رہنے کا حکم صادر کر دیا۔ فلسطینی مصنف نے آیت اللہ خامنہ ای کے صریح الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے رہبر نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کے ارد گرد امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور خلیج فارس سے تیل کی برآمدات مکمل طور پر روک دی جائیں گی۔ اس پیغام نے واشنگٹن میں ہلچل مچا دی۔
امریکہ کا دیوالیہ پن اور ٹرمپ کے ساتھ چین کا تنازعہ
اس کے بعد عطوان نے امریکہ کی اندرونی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ آج ایک بڑے قرض اور بجٹ کے خسارے کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکی قرض 42 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے اور بجٹ کا خسارہ 1.4 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس اقتصادی صورتحال نے ٹرمپ کو فوری طور پر فوجی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے اپنے تجزیئے کو جاری رکھتے ہوئے حالیہ پیشرفتوں میں چین کے اثر و رسوخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چین عمان مذاکرات میں ایران کی سودے بازی کی طاقت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے جواب میں بیجنگ نے نہ صرف امریکی مصنوعات پر 125% تک محصولات میں اضافہ کیا بلکہ برکس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ڈالر اور سوئفٹ پر حملے بھی شروع کر دیئے۔ چین نے امریکہ کی مالیاتی ریڑھ کی ہڈی کو نشانہ بنایا ہے۔
چین کی قیادت میں اتحاد سے ٹرمپ کا خوف
عطوان نے زور دے کر کہا کہ یوکرین میں شکست، داخلی فسادات اور معاشی بحران کے نتائج سے دوچار ٹرمپ اب چین کی قیادت میں ایران اور روس کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس نے اس کو عوام کے سامنے فروخت کرنے پر مجبور کیا، صرف تین دن بعد ٹیرف جنگ میں بھی ٹرمپ یو ٹرن لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ مشہور تجزیہ کار اپنے آرٹیکل کے خلاصے میں لکھتے ہیں کہ ایران کی سیاست اب اسٹریٹجک صبر کی سیاست نہیں رہی، تہران فوجی میدان جنگ اور سفارتی میدان میں مقابلہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس نے بحیرہ احمر میں اپنے یمنی بازو کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی ہے۔ عطوان نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے مہینوں میں امریکہ ایک مضحکہ خیز کارٹون بن گیا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی ارادوں کی اس جنگ کے فاتح بنیں گے۔


































