
Oplus_16908288
ہزاروں زخمی اور نفسیاتی طور پر متاثرہ فوجیوں کی ابتر حالت کا چیلنج
خصوصی رپورٹ:
ایک عبری زبان کے میڈیا ادارے نے جنگ کے بعد صہیونی فوجیوں کو درپیش شدید ذہنی اور نفسیاتی مسائل کے وسیع پہلوؤں سے پردہ اٹھاتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کی اصل جنگ اب شروع ہوئی ہے۔ عبری زبان کی نیوز ویب سائٹ واللا نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل کا بحالی کا نظام شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران ہزاروں زخمی اور معذور فوجی ان مراکز سے رجوع کر چکے ہیں اور مختلف سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف جسمانی معذوری یا زخموں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیلی فوجیوں میں نہایت پیچیدہ ذہنی اور نفسیاتی امراض کی ایک بڑی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جن کے علاج کے لیے طویل المدت تھراپی اور مسلسل بحالی کی ضرورت ہے۔ اس عبری میڈیا کے اعتراف کے مطابق کم از کم 20 ہزار اسرائیلی فوجی مرد و خواتین، جو اسرائیلی فوج حتیٰ کہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ تھے، جنگ کے بعد بحالی کے مراکز میں داخل کیے جا چکے ہیں۔
یہ تعداد صرف جنگ کے آغاز کے بعد کی ہے، جن میں سے تقریباً 56 فیصد شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس جنگ میں زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی مجموعی تعداد 81 ہزار 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جو اب بھی مختلف طبی سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے 31 ہزار افراد شدید ذہنی دباؤ، صدمے کے بعد پیدا ہونے والی ذہنی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہیں، جن کے علاج میں طویل وقت لگنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ صرف فوجی ہی نہیں بلکہ 7 اکتوبر کے بعد 80 ہزار کے قریب غیر فوجی اسرائیلی شہری بھی جنگی زخمی اور معذور کے طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ صدمے کے بعد پیدا ہونے والی ذہنی بیماریاں اکثر وقت گزرنے کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ذہنی صحت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل اس وقت اپنی تاریخ کے شدید ترین ذہنی صحت کے بحران سے گزر رہا ہے۔ تشخیص، تخصصی علاج اور مستقل نفسیاتی معاونت کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بحالی اور علاج کے نظام شدید دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں، مناسب معیارات، تخصصی ٹیموں اور مؤثر علاجی ڈھانچوں کی کمی پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔
بہت سے متاثرین طویل انتظار، ماہرین تک رسائی میں دشواری اور حقیقی ضروریات اور دستیاب سہولیات کے درمیان گہرے فرق کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس عبری میڈیا کے اعتراف کے مطابق، اسرائیلی وزارتِ جنگ، وزارتِ صحت، وزارتِ سماجی بہبود اور وزارتِ تعلیم اس بحران کی شدت کو تسلیم کرتی ہیں اور اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اسرائیل کی اگلی ترجیح جسمانی اور نفسیاتی بحالی ہونی چاہیے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ بحالی کا عمل کئی سالوں پر محیط ہوگا اور اس کے لیے انسانی وسائل اور مالی وسائل میں نمایاں اضافے کی ضرورت ہوگی۔ واللا نے رپورٹ کے اختتام پر اعتراف کیا کہ موجودہ صورتحال نے نہ صرف جسمانی نقصان پہنچایا ہے بلکہ اسرائیلی معاشرہ گہرے نفسیاتی زخموں سے بھی دوچار ہو چکا ہے، جن کے اثرات آئندہ نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔


































