
رپورٹ: سید عدیل زیدی
مہذب معاشروں میں ہمیشہ سے ہی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے عقائد اور جذبات کا احساس کیا جاتا رہا ہے، تاہم آج کے اس دور میں خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن قرار دینے والے غیر مسلم ممالک کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بری طرح سے مجروح کرنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، کبھی آزادی اظہار کے نام پر قرآن مجید کی بے حرمتی کی جاتی ہے تو کبھی نبی کریم (ص) کی شان اقدس میں گستاخی ہوتی ہے۔ حال ہی میں سوئیڈن کی جانب سے سرکاری چھتری تلے قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی ناپاک اور ننگی جسارت کی گئی۔ سوئیڈن میں 37 سالہ لبرل انتہاء پسند عراقی سلوان مومیکا جو کئی سال قبل سوئیڈن فرار ہوگیا تھا، اس نے عید کے روز اس وقت مقدس ترین کتاب کی بے حرمتی کی، جب مسلمانوں سوئیڈن میں عید الاضحیٰ منا رہے تھے۔ او آئی سی نے قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف اجلاس بلایا، او آئی سی کا اجلاس ادارے کے جدہ میں واقع ہیڈکوارٹر میں ہوگا، جس میں عید الاضحیٰ کے موقع پر سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے شرمناک واقعے کے بارے میں تبادلہ کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران واقعے پر ردعمل دکھاتے ہوئے مشترکہ موقف اور ضروری اقدامات کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔ اجلاس بلانے کا فیصلہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ کے درمیان ٹیلفونک گفتگو کے بعد کیا گیا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز دی تھی۔ جہاں مسلم ممالک نے اشتعال انگیز واقعے کی شدید مذمت کی ہے، وہیں امریکا نے سوئیڈن حکومت کے قرآن جلانے کے اجازت نامے کی حمایت کی اور اسے آزادی اظہار سے تعبیر کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میٹ میلر کا کہنا تھا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اس مظاہرے کے لیے دیا گیا اجازت نامہ آزادی اظہار کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ کے اس مکروہ اقدام پر مسلم امہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر نے امریکی ردعمل کے برخلاف قرآن کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے امت مسلمہ کے دل جیت لئے۔
قرآن پاک کی بے حرمتی کے افسوسناک واقعہ کے فوری بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن داغستان پہنچے، جہاں انہوں نے ایک مسجد کا دورہ کیا اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پیوٹن نے سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کا اقدام اگر روس میں سرزد ہوتا تو سزا دی جاتی، کیونکہ روس میں قرآن پاک کی بے حرمتی جرم ہے۔ انہوں نے مسلم رہنماوں سے بات چیت کے دوران قرآن پاک کو سینے سے لگائے رکھا۔ روسی صدر کے اس اقدام کو مسلم دنیا میں کافی سراہا جا رہا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذہبی مقدسات کی توہین کے پے در پے واقعات کے باوجود اس سلسلے کو ابھی تک نہیں روکا جاسکا۔ او آئی سی کا اجلاس حسب روایت طلب کیا جاتا ہے، مسلم حکمرانوں کی جانب سے انفرادی طور پر مذمتیں بھی سامنے آتی ہیں، امت مسلمہ احتجاجی مظاہرے بھی کرتی ہے، اقوام متحدہ کو خطوط بھی لکھے جاتے ہیں، تاہم اس سب کے باوجود غیر مسلم ممالک میں یہ واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
سوئیڈن حکومت کی جانب سے اس قسم کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر نہ صرف عالمی سظح پر مسلمانوں کے جذبات کیساتھ کھلواڑ کیا ہے بلکہ مغرب کی مذہبی آزادی کے دعووں کی قلعی بھی کھول دی ہے، امریکہ کی طرف سے اس قبیح اقدام کی کھلم کھلا حمایت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر یورپی ممالک کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت نہ کرنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اس صورتحال میں مسلم ممالک کے مشترکہ فورم او آئی سی کا اجلاس بلایا جانا ایک احسن اقدام ہے، تاہم اگر یہ اجلاس بھی ماضی کی نشستوں کی طرح بے سود ثابت ہوتا ہے تو یہ مسلم امہ کیلئے قابل افسوس ہوگا۔ مسلم حکمرانوں کو اس حوالے سے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور اس معاملہ پر تمام تر سیاسی و علاقائی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنا ہوگا۔ کسی کو بھی آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر مقدسات کی توہین کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔


































