
تحریر: علی احمدی
گذشتہ ہفتے شام اور روس کی مسلح افواج نے شمال مغربی صوبے ادلب میں دہشت گرد گروہ ہیئت تحریر الشام کے ٹھکانوں کو شدید گولہ باری اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ہیئت تحریر الشام درحقیقت النصرہ فرنٹ ہے جس نے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عرب لیگ میں رکنیت بحال ہو جانے کے بعد از شام حکومت صوبہ ادلب میں دہشت گردی کے آخری گڑھ کو نابود کرنے کیلئے پرعزم ہو چکی ہے۔ 25 جون 2023ء سے شروع ہونے والے ان حملوں کی تفصیلات بیان کرنے ہوئے شام کی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ حملے روس فضائیہ کی مدد سے ادلب میں شروع کئے گئے ہیں۔ البتہ اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ دراصل دہشت گرد عناصر نے خود ہی جنگ بندی توڑنے میں پہل کی ہے۔ شام کے صوبوں حما اور لاذقیہ میں دہشت گردوں کے راکٹ حملوں سے دو بچے جاں بحق اور کئی شہری زخمی ہو گئے۔
شام کی وزارت دفاع کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف گولہ باری اور فضائی حملوں میں ان کے اسلحہ کے ڈپو تباہ ہو گئے ہیں۔ روس کے جنگی طیاروں نے بھی ادلب، لاذقیہ اور حلب میں دہشت گرد گروہوں ہیئت تحریر الشام اور حزب الاسلامی الترکستانی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے بعد ہیئت تحریر الشام نے اپنے باقی فوجی اڈے خالی کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریر الشام کے دہشت گرد ادلب کے اردگرد تمام چیک پوسٹیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف حملوں کا دوسرا مرحلہ دو دن بعد شروع ہوا۔ روسی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں دہشت گردوں کے چار کمانڈ سنٹر اور اسلحہ کے ڈپو تباہ ہوئے۔ اسی طرح 65 دہشت گرد بھی ہلاک ہو گئے۔ یاد رہے ہیئت تحریر الشام ان باقی بچے دہشت گرد عناصر پر مشتمل ہے جو شام میں داعش کی شکست کے بعد صوبہ ادلب میں جمع ہیں۔
شام اور روس کی مسلح افواج نے ایسے وقت صوبہ ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف نئے آپریشن کا آغاز کیا ہے جب شام کے اکثر علاقے دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑوائے جا چکے ہیں، دمشق عرب لیگ میں واپس لوٹ چکا ہے اور عرب ممالک نے 12 سال کے بعد شام سے تعلقات بحال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ترکی نے بھی شام سے متعلق اہم یوٹرن لیا ہے اور روس کی وساطت سے شام سے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اب وہ دہشت گرد عناصر جو ماضی میں ترکی سے وابستہ تھے حیران و سرگردان رہ گئے ہیں اور آئے دن ترکی کی جانب سے شام سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ ہیئت تحریر الشام (النصرہ فرنٹ) اس وقت بھی صوبہ ادلب اور حلب کے کچھ حصوں پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ یہ گروہ اپنی بقا کیلئے امریکہ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔
ہیئت تحریر الشام کے سربراہ محمد الجولانی نے گذشتہ برس ماسکو میں ترکی اور شام کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شدید غصے کا اظہار کیا تھا اور "لن نصالح” (ہر گز صلح نہیں کریں گے) کے عنوان سے ایک ویڈیو پیغام شائع کیا تھا۔ یہ گروہ اب تک امریکہ کی دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہے جس کے باعث وہ کھلم کھلا فعالیت انجام نہیں دے سکتا۔ لہذا اب اس گروہ کی کوشش ہے کہ ماضی سے مختلف ایسا نیا چہرہ پیش کرے جو زیادہ ترقی یافتہ محسوس ہوتا ہو۔ لبنانی اخبار البناء کے مطابق بعض قوتیں تحریر الشام کا اچھا چہرہ پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اسے ایک سیاسی گروہ قرار دے کر شام کے سیاسی میدان میں داخل ہونے کا زمینہ فراہم کر سکیں۔ اسی طرح بعض مغربی طاقتیں تحریر الشام کے زیر قبضہ علاقوں کو خودمختار حیثیت دلوانے کیلئے کوشاں ہیں۔
محمد الجولانی اس وقت مشہور ہوا جب وہ 2011ء میں شام میں سکیورٹی بحران کے آغاز کے وقت القاعدہ کی شاخ النصرہ فرنٹ کا سربراہ تھا۔ القاعدہ کے دہشت گردوں نے شام کے شمالی علاقوں میں شام آرمی پر حملہ کیا اور صوبہ ادلب اور حلب کے کچھ حصوں پر قبضہ جما لیا۔ جولائی 2016ء میں النصرہ فرنٹ نے اپنا نام تبدیل کر کے "فتح الشام محاذ” رکھ لیا اور اعلان کیا کہ وہ القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ یہ اعلان دراصل اپنا بہتر چہرہ پیش کرنے کی ایک کوشش تھی۔ بعد میں فتح الشام، القاعدہ اور دیگر بہت سے چھوٹے چھوٹے دہشت گرد گروہوں نے مل کر ہیئت تحریر الشام کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد محمد الجولانی نے بھی بھیس بدل لیا اور عرب لباس پہننے کی بجائے پینٹ کوٹ میں ظاہر ہونے لگا۔ شام آرمی سے شکست کھانے کے بعد جتنے دہشت گرد عناصر ادلب جاتے تھے وہ تحریر الشام میں بھرتی ہو جاتے تھے۔
2017ء میں تحریر الشام نے مقبوضہ علاقوں میں "نجات حکومت” کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک طرح سے حکومتی سیٹ اپ تھا۔ 2020ء کے شروع میں شام آرمی نے صوبہ ادلب اور حلب کو آزاد کروانے کیلئے وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس وقت ترکی ان دہشت گرد عناصر کا شدید حامی تھا۔ آخرکار مارچ 2020ء میں شام حکومت اور ہیئت تحریر الشام میں جنگ بندی طے پا گئی۔ اب یوں دکھائی دیتا ہے کہ شام حکومت نے صوبہ ادلب میں دہشت گردوں کے آخری گڑھ کو بھی ختم کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ اگرچہ دہشت گرد گروہ تحریر الشام کا سربراہ محمد الجولانی امریکہ سے اس بات کی امید لگائے بیٹھا ہے کہ شاید انہیں دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے باہر نکال دے لیکن ماہرین کی نظر میں یہ ایک بیہودہ امید ہے اور اب اسے حتمی نابودی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔


































