Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

معاشرے کی تعلیم و تربیت میں خواتین کا کردار


انسانی زندگی کی تکمیل ، سکون اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔معاشرے کی ترقی کا ذریعہ انسان کی صلاحیتوں کے نکھار اور افرادی قوت کی تربیت میں پوشیدہ ہے- سماجی ماہرین کی تحقیقات کے مطابق معاشرے کی افرادی قوت کی تعلیم و تربیت میں خواتین کا کردارسب سے نمایاں ہے – بچوں کی تعلیم و تربیت میں عورت کے کردار سے ہم کسی بھی طرح سے انکار نہیں کر سکتے ہیں – معاشرے کی پڑھی لکھی خواتین اس معاشرے کی ترقی کا باعث بنتی ہیں اور جن علاقوں میں خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے وہاں پر معاشی اور معاشرتی پسماندگی دیکھنے کو مل رہی ہے – اسلام کے قانون اور تعلیمات انسان کی فطرت کے عین مطابق ہیں لہذا اسلام نے خواتین کو خصوصی اہمیت دی ہے۔
عورت کے مقام و مرتبے کی اہمیت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر دین اسلام نے چودہ سو سال قبل توجہ دی تھی- اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ گھرانے اور معاشرے میں عورت کا اہم مقام ہے اسی بنا پر گھرانے سے لے کر معاشرے کے مختلف طبقات میں عورت کا کردار اہم نظر آتا ہے اور اس پر کچھ خاص ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں-
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے عورت کو ایک انسان ساز اور معاشرہ ساز ہستی قرار دیا ہے۔
حضرت امام خمینی (رہ)نے اسلامی انقلاب کے ابتدائی دنوں میں معاشرے میں مسلمان خواتین کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا :
"اسلام یہ چاہتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں ترقی کریں- اسلام نے عورت کو جاہلیت کی خرابیوں سے بچایا- اسلام یہ چاہتا ہے جیسے مرد اہم کاموں کو سرانجام دیتا ہے عورت اس طرح انجام دے -اسلام یہ چاہتا ہے کہ عورت اپنی حیثیت اور قدر و منزلت کو محفوظ رکھے- اسلام نے عورت کی جو خدمت کی ہے اس کا سراغ کہیں اور نہیں ملتا ہے-"
اسلامی انقلاب سے پہلے ایران میں دو سلسلے جاری تھے- دونوں سلسلوں نے عورت کی پہچان اور حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے- ایک سلسلہ قاجاری دور سے متعلق ہے- اس میں دو خصوصیات یعنی جہالت اور کم مائیگی شامل تھیں جبکہ دوسرے سلسلے یعنی پہلوی دور میں معاشرے کی صورتحال مکمل طور پر بدل گئی اورمغرب کی سیاست و ثقافت ایران میں نافذ ہوگئی نئی صورت حال میں عورت کی طرف توجہ بڑھنے لگی لیکن ساتھ ہی وہ اپنی انسانی پہچان سے بھی دور ہوتی چلی گئی-
ایران میں 1979ءمیں عظیم اسلامی انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں اس ملک میں اسلامی حکومت قائم ہوئی- اس کے بعد معاشرے میں بنیادی تبدیلی آئی اس کے اثرات خواتین پر بھی پڑے عورت کے رجحانات میں تبدیلی آئی؛ وہ فکری، علمی، ثقافتی اور اجتماعی مسائل کی ترقی کے راستے پر گامزن ہونے لگی –
امریکا نے دنیا بھر میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیی جہاں دوسرے بہت سارے ذرائع استعمال کیے ہیں وہیں اس نے عورت کو بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیی استعمال کیا ہے – عورتوں کے حقوق کے جھوٹے اور پرکشش قسم کے نعروں کے ذریعے عورتوں کی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے – امریکہ کی سرکردگی میں عالمی سامراج اپنی کٹھ پتلی تنظیموں کے ذریعے اپنے بہت سے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے- اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ افراد جو امن چاہتے ہیں خاص طور پر ادیان ابراہیمی کے پیرو اور مسلمان، عوامی تنظیمیں قائم کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر اتحاد و یکجہتی پیدا کریں- اسلامی ثقافت پر دشمنوں کی یلغار اور اسلامی ملکوں میں بیداری کی لہر نے مسلمان خواتین کی عالمی یونین کی تشکیل کی ضرورت کو دو چند کر دیا ہے- ہم یہ یونین تشکیل دے کر عالم اسلام کی سطح پر مسلمان عورتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی قائم کرنے اور دینی و مذہبی شعبوں میں مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کر سکتے ہیں –
مسلمان عورتوں کی عالمی یونین پوری دنیا میں اتحاد و یکجہتی کے اسلامی نمونوں کو پھیلا سکتی ہے- عورتیں معاشرے کا نصف حصہ ہیں لیکن قرآن کریم اور دینی مآخذ و منابع میں عورت کا کردار اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد، پاکیزہ عورتوں کے ذریعے ہی رکھی جاتی ہے- آج انسانی معاشرے کا اصل مسئلہ گھرانے کی بنیادیں توڑ دینا اور معاشرے کو پاکیزہ عورتوں کے دامن سے محروم کر دینا ہے- مغرب عورتوں کو گھروں سے باہر لے آیا اور اس نے گھریلو عورت کو بےکار اور معاشرے کا عضو معطل قرار دیا- آیت اللہ اراکی کہتے ہیں کہ عورت کو مرد کی جگہ اور مرد کو عورت کی جگہ بٹھانا ایک خیانت ہے- حضرت مریم ؑ سے لے کر حضرت خدیجہ ؑ اور حضرت فاطمہ (س) تک انسانی معاشرے کی بااثر خواتین ایک ہی پاک سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں- پوری تاریخ میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کی اولاد نے برائی نفاق اور ظلم کے خلاف جدوجہد اور جنگ کی- اس بنا پر ایک پاک و پاکیزہ خاندان انسانی معاشرے کو پاک کر دیتا ہے- اگر خاندان رسول کو معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ہمارے پاس ایک ایسا اسلامی معاشرہ ہو تاکہ جس میں اخوت و بھائی چارے کا دور دورہ ہوتا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular