
تحریر: آیت اللہ العظمی جوادی آملی
قرآن حکیم نے کافروں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
اگر ہم ان سے جنگ کرتے ہیں — تو اس کی علت یہ ہے — کہ وہ کسی عہد، کسی حقِ انسانی کو تسلیم نہیں کرتے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾سوره توبه / آیه ۱۲
(کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو — کیونکہ ان کے پاس کوئی عہد و پیمان نہیں ہے۔)
اس آیت کا پیغام — یہ ہے:
ان سے مبارزہ کرو — اس لیے — کہ یہ:
· کسی معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔
· کسی میثاق کو تسلیم نہیں کرتے۔
· کسی دستخط کی قدر نہیں کرتے۔
· اور بین الاقوامی تعلقات میں کسی اصول کو تسلیم نہیں کرتے۔
یہاں — «لَا أَيْمَانَ لَهُمْ» — یہ نہیں فرمایا — کہ "ان کے پاس ایمان نہیں” — بلکہ فرمایا: "ان کے پاس عہد نہیں” — کیونکہ وہ اپنے عہد کے پابند نہیں ہیں۔
پس — ان سے مبارزہ کرنا — ہمارا فرض ہے۔


































