
تحریر: تصور حسین شہزاد
ٹرمپ کا امن منصوبہ، ایسے لگتا ہے کہ فلسطین پر قبضے اور اسرائیل کو پاکستان سمیت دنیا بھر سے تسلیم کروانے کا منصوبہ ہے۔ اس بھیانک منصوبے سے اسرائیل کے مجرمانہ کردار کو قانونی تحفظ مل جائے گا۔ اس سیاہ منصوبے کی حمایت کرنیوالے یاد رکھیں کہ تاریخ اس منصوبے کے حامی حکمرانوں کے سیاہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ کسی ریاست کا وجود تب تک ممکن نہیں، جب تک اس کی حفاظت کیلئے اس کی اپنی فوج نہ ہو اور پورا نظام حکومت نہ ہو۔ یہ کیسی ریاست ہوگی، کہ جسے افواج رکھنے کی اجازت نہ ہوگی، بلکہ ٹرمپ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ہونگے اور برطانوی وزیر اعظم اس کا سربراہی میں ساتھ دیں گے۔ یعنی یہاں کسی اور (فلسیطنی) کی کوئی اوقات نہیں ہوگی، بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی شکل میں سارے معاملات اسرائیل کے پاس ہی رہینگے۔
یہ کون نہیں جانتا کہ برطانیہ وہی ملک ہے جس نے صہیونی یہودیوں کیساتھ مل کر اسرائیل کی شکل میں ایک ناسور تشکیل دیا تھا، جس سے مسلم اُمہ کا خون آج بھی رِس رہا ہے۔ مکمل قبضے کے بعد اس کا حال بھی وہی ہوگا، جو ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کا ہوا ہے۔ یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قاتل، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اس کے انسانیت سوز مظالم کو قانونی تحفظ مل جائے گا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو امن منصوبہ فلسطین اور غزہ کیلئے پیش کیا ہے، وہ بظاہر ’’امن‘‘ کے نام پر ہے، مگر حقیقت میں فلسطین پر مکمل قبضے کی دستاویز ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل کو مزید طاقتور اور فلسطینی عوام کو مزید غلام بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
منصوبے کی اہم شقیں اور اس کے نقصانات کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی کی نگرانی میں انتظام چلانے کا بھیانک پلان ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ایسا ادارہ بنایا جائے گا جس کا سربراہ ٹرمپ یا امریکی نمائندہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کے مستقبل پر براہِ راست امریکہ کا قبضہ ہوگا۔ اگر سربراہ ہی امریکی ہے، تو پھر یہ ’’امن منصوبہ‘‘ نہیں، بلکہ امریکی آقا کے غلامی کا نیا نظام ہے۔ اس منصوبے کے تحت حماس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ ہتھیار ڈالے دے۔ منصوبے کے مطابق حماس کے مجاہدین کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ یہ دراصل فلسطینی مزاحمت کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینا ہے، حالانکہ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادی کی جائز جدوجہد ہے۔
اگر حماس ہتھیار ڈال دے گی تو اسرائیل ان کیخلاف مزید آسانی سے کارروائی کر سکے گا، گرفتاریاں کرے گا، قتل کرے گا اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ ٹرمپ کا غزہ کو ’’دہشت گردی سے پاک‘‘ کرنے کا مطالبہ بھی ایک فراڈ اور کھلا دھوکہ ہے۔ یہ شق دراصل فلسطینیوں کی جائز قربانیوں کو دہشت گردی تعبیر کروانا ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل کے ظلم کو ’’قانونی‘‘ اور فلسطین کی مزاحمت کو ’’جرم‘‘ ثابت کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے، بلکہ شہداء اور مجاہدین کی قربانیوں کی توہین بھی ہے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطین کو مزید ٹکڑوں میں باٹنے کا ارادہ ہے۔ منصوبے کے نتیجے میں اسرائیل کو مزید زمین ملے گی اور فلسطینی ریاست مزید سکڑ جائے گی۔ یروشلم کو اسرائیل کا ’’غیر منقسم دارالحکومت‘‘ قرار دینا اس منصوبے کا سب سے بڑا ظلم ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت کچھ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔
یہ رویہ دراصل امریکی غلامی اور اسرائیل نوازی کا ثبوت ہے۔ یہ حکمران اپنی کرسی بچانے کیلئے اُمتِ مسلمہ کا سودا کر رہے ہیں۔ یہ فلسطینی خون کو سستا کرکے امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی کر رہے ہیں۔ یہ حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کو تنہا چھوڑ کر ظالم کیساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف شرمناک ہے، بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور غیرت پر کاری ضرب ہے۔ یہ اسرائیل کو تحفظ دینے ان کے مجرمانہ کارروائیوں کو تحفظ دینے اور اسے بچوں کے لہو سے بے گناہوں کے لہو سے صاف کرنے کی کوشش کا منصوبہ ہے، نہ کہ امن کا منصوبہ۔ یہ منصوبہ امن نہیں، بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسرائیل کو مزید طاقتور بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ کو براہِ راست فلسطین کا مالک و مختار بنایا جا رہا ہے۔ اس سیاہ منصوبے کی حمایت کرکے مسلم حکمران امریکی غلامی میں اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عوام اس منصوبے کیخلاف آواز بلند کریں، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی غلامانہ پالیسیوں کی مذمت کریں اور دنیا کو یہ بتائیں کہ فلسطینی مزاحمت دہشت گردی نہیں بلکہ جائز اور مقدس جدوجہد ہے۔


































