
تحریر: رضا حسینی
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اسلامی مزاحمت کے تسلسل اور جنوبی محاذ پر استقامت جاری رکھنے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ لبنانی حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے: "اسلامی مزاحمت کی پیٹھ میں خنجر مت گھونپیں۔” انہوں نے محاذ جنگ کی حقیقی صورتحال واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ لبنان میں حقیقی جنگ بندی نہیں ہے بلکہ صیہونی امریکی جارحیت بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا: "صیہونی دشمن نے حتی ایک قدم بھی جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا ہے اور اب تک وہ دس ہزار سے زیادہ مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ کوئی سرخ لکیر موجود نہیں اور نہ ہی کوئی بفر زون پایا جاتا ہے۔” شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنانی فوج معاہدہ لاگو کرنے کے لیے دریائے لیتانی کے جنوب میں تعینات ہو چکی ہے جبکہ حزب اللہ نے بھی مناسب طریقہ کار اختیار کر لیا ہے۔
ملکی سالمیت کی حفاظت
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان کی اس وارننگ کے ساتھ ہی حزب اللہ کے مجاہدین نے غاصب صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں جنوبی لبنان کے محاذ پر چند موثر فوجی کاروائیاں انجام دیں۔ عرب میڈیا ذرائع کے مطابق حزب اللہ لبنان نے خودکش ڈرون طیاروں کے ذریعے جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی فوجیوں کے اکٹھ کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں چند مرکاوا ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کی خبر ہے۔ یہ کاروائی اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے دیہاتوں پر فضائی حملوں کے جواب میں انجام پائی ہے۔ اس کاروائی میں صیہونی فوجیوں کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ حزب اللہ نے ایسی کاروائیوں سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر جواب ضرور دے گی۔
دوسری طرف نبطیہ کے محاذ پر بھی صیہونی فوجیوں اور حزب اللہ مجاہدین کے درمیان شدید جھڑپوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ان جھڑپوں کے بعد صیہونی فوج دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ غاصب صیہونی حکام ایک طرف تو لبنان میں بڑی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں نام نہاد بفر زون قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان شیخ نعیم قاسم نے واضح کر دیا ہے کہ اسلامی مزاحمت ہر گز اپنا اسلحہ نہیں چھوڑے گی کیونکہ صرف فوجی طاقت ہی لبنان کی خودمختاری کی ضامن ہے۔ اسی طرح انہوں نے لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کے فیصلے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ ایسے وقت جب غاصب صیہونی رژیم اسٹریٹجک ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکی ہے، لبنان میں قومی اتحاد اور اسلامی مزاحمت کی عوامی حمایت حتمی فتح کی نوید دلاتی ہے۔
ٹرمپ کی بے بسی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غاصب صیہونی رژیم پر براہ راست دباو ڈال کر لبنان کے محاذ پر جنگ بندی قائم کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ نیتن یاہو اور اس کی کابینہ کے انتہاپسند عناصر اس کے شدید مخالف ہیں۔ ہارٹس اور ٹائمز آف اسرائیل جیسے عبرانی ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے دباو میں آ کر تین ہفتے کی جنگ بندی قبول کی ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فونک بات چیت میں اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان پر حملوں کو "سرجیکل اسٹرائکس” کی حد تک رکھے اور وسیع پیمانے پر عمارتوں کو تباہ کرنے سے گریز کرے کیونکہ اس سے اسرائیل کی بدنامی ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حتی ٹرمپ بھی صیہونی حکمرانوں کا جنگی جنون مکمل طور پر روکنے پر قادر نہیں ہے۔ ٹرمپ لبنان میں زبردستی جنگ بندی کروا کر ایران سے ممکنہ معاہدہ کرنے کے لیے وقت خرید رہا ہے۔
لبنانی حکومت کی مجاہدین سے غداری
صدر جوزف عون کی سربراہی میں لبنانی حکومت مارچ کے مہینے میں، جب غاصب صیہونی رژیم نے اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان کو کھلی جارحیت کا نشانہ بنا رکھا تھا، اسلامی مزاحمت کی حمایت کرنے کی بجائے صیہونی رژیم سے سازباز کا راستہ اپنایا۔ جوزف عون نے لبنان میں اسرائیلی قتل و غارت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے عملی طور پر اسلامی مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزید برآں، لبنانی حکومت نے یکطرفہ طور پر امریکہ کی ثالثی قبول کی ہے اور اس کی مدد سے اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ عمل لبنان کے شہداء سے واضح غداری ہے اور جوزف عون نے حتی اسرائیل کے غاصب صیہونی حکمرانوں سے براہ راست مذاکرات پر بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے براہ راست مذاکرات کا اعلان کر کے اور اسرائیل سے "مستقل معاہدوں” اور "نئے مرحلے” کے آغاز جیسے بیانات دے کر اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ لبنان کی سرخ لائن سے عبور کر لیا ہے۔ جوزف عون نے ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے اسلامی مزاحمت پر الزام لگایا کہ وہ لبنان کو غیروں کی جنگ میں دھکیل رہی ہے۔ یوں اس کی زبان سے صیہونی موقف سامنے آیا ہے۔ عون کی سربراہی میں لبنانی حکومت نے وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو امریکہ کی پیش کردہ شرائط ماننے پر مجبور کیا جن کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ لبنان کی جہادی سرگرمیوں کو محدود کر دیا گیا۔ یہ تمام اقدامات ایسے وقت انجام دیے گئے جب غاصب صیہونی دشمن بدستور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور عام لبنانی شہریوں کو شہید کرنے میں مصروف ہے۔


































