Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

یمن کی تازہ صورتحال

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ایک باخبر ذریعے نے یمن کے محاذ کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں ایرانی میڈیا کو بتایا ہے کہ گذشتہ رات سے اب تک مغربی ساحل پر انصار اللہ کی مسلسل کامیابیوں کے نتیجے میں حیس، خوخہ، بخا اور حنیش و زُقَر کے جزائر انصار اللہ کے قبضے میں آگئے ہیں اور انہیں آزاد کرا لیا گیا ہے۔ مستند ذریعے نے مزید کہا کہ آج شام ذباب، باب المندب سمیت اسٹریٹجک جزیرہ میون بھی مزاحمت کے کنٹرول میں آگیا ہے۔ اس باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ اس وقت یمن کا پورا مغربی ساحل مزاحمتی بلاک یعنی حوثیوں اور انصاراللہ کے کنٹرول میں ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں کا رقبہ 4,500 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہوچکا ہے۔ اس ذریعے کے مطابق سعودی عرب سے وابستہ بڑی تعداد میں جنگجو، بالخصوص طارق عفاش کی فورسز کے اہلکار، ہلاک، گرفتار یا منتشر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب نے آج دوپہر سے اب تک صرف چند گھنٹوں کے دوران انصار اللہ کے ٹھکانوں پر 80 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔ اس ذریعے نے مزید کہا کہ بحری جہازوں کی آمدورفت کے راستے مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ شروع ہوگیا ہے۔

صنعاء کا اعلان، مغربی ساحل پر مکمل کنٹرول اور جھڑپوں کا خاتمہ
صنعاء کی حکومت نے تعز صوبے کے ساحلی علاقوں میں جھڑپوں کے خاتمے اور ان علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے اعلان کیا ہے کہ "سعودی دشمن سے وابستہ فورسز کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے کے بعد مغربی ساحل کے اضلاع میں جھڑپیں رک گئی ہیں۔” کونسل نے بحیرۂ احمر میں بحری جہاز رانی سے متعلق یمن کی تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی پر بھی زور دیا۔ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے ان تمام فریقوں سے، جو سمندری جہاز رانی کی سلامتی کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں، مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالیں، تاکہ وہ ان علاقوں میں اپنی اتحادی فورسز کی عسکریت پسندی ختم کرے۔

اسی دوران صنعاء حکومت کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابورأس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مغربی ساحلی علاقوں میں جھڑپوں کے خاتمے اور بعض مقامات پر محدود جھڑپوں کی اطلاع دی اور اس بات پر زور دیا کہ صنعاء اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔ ابورأس نے کہا: "مغربی ساحل میں ہونے والی محدود جھڑپیں بھی ختم ہوگئی ہیں اور صنعاء اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔” صنعاء کے نائب وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ "سعودی دشمن اب بھی شہری تنصیبات پر بمباری اور یمنی عوام کے قتلِ عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔” آج شام یمن کی فوج اور انصار اللہ کی بحیرۂ احمر سے متصل ساحلی علاقوں میں تیز رفتار پیش قدمی کے دوران، جزیرہ زُقَر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حنیش الکبریٰ اور حنیش الصغریٰ کے دونوں جزائر کو بھی آزاد کرا لیا گیا۔

ریاض کے حامی عدن حکومت سے وابستہ ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ صنعاء حکومت کی فورسز ان دونوں جزائر میں داخل ہوگئی ہیں۔ یہ جزائر باب المندب سے تقریباً 140 سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یمنی ذرائع نے یہ بھی اعلان کیا کہ یمن کی فوج اور انصار اللہ جزیرہ میون (پریم) میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جزیرہ باب المندب کے عین گزرگاہی حصے میں واقع ہے۔ اسی دوران یمنی فورسز کی مغربی ساحل پر پیش قدمی کے ساتھ سعودی اتحادی جنگجوؤں کی جیلوں میں قید تمام قیدیوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔ ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں یمنی فورسز کے جیلوں میں داخل ہونے کے وقت قیدیوں کو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ فورسز میں اندرونی اختلافات میں اضافہ
دریں اثناء، شہر تعز بھی ایک غیر معمولی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ شہر کے وہ حصے، جو یمنی فورسز کے کنٹرول میں نہیں ہیں، طارق صالح سے وابستہ عناصر کے قبضے میں ہیں۔ یہ عناصر جنوبی صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب سے وابستہ ہزاروں جنگجو مخا اور دیگر علاقوں میں شکست کے بعد تعز کی جانب فرار ہوگئے ہیں، تاہم تعز میں موجود عناصر انہیں شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طارق صالح کی فورسز اور العمالقہ کے جنگجوؤں۔۔۔ جو جنوبی صوبوں سے تعلق رکھنے والی خصوصی فورسز ہیں اور علیحدگی پسندانہ مؤقف رکھتی ہیں۔۔۔ انہوں نے گذشتہ دنوں متعدد مرتبہ ریاض، عدن حکومت اور بالخصوص رشاد العلیمی پر غداری اور ضروری فوجی سازوسامان و معاونت فراہم نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں اپنی شکست کی وجہ بھی یہی قرار دی ہے۔

پیش قدمی روکنے کے لیے 54 فضائی حملے
زمینی محاذ پر ان پیش رفتوں کے ساتھ ہی سعودی عرب نے صنعاء حکومت کی فورسز کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ سعودی جنگی طیاروں ایف-15 ایس اے اور ٹائفون نے 12 گھنٹوں کے دوران 54 فضائی حملے کیے۔ یہ حملے کنگ خالد اور کنگ فہد کے فضائی اڈوں سے کیے گئے۔ ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض نے فضائی طاقت استعمال کرتے ہوئے یمنی فوج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی۔ تاہم فضائی حملوں کی بڑی تعداد کے باوجود محاذ کی صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی نہیں آسکی اور صنعاء حکومت کی فورسز اپنی پیش قدمی جاری رکھنے میں کامیاب رہیں۔ دوسری جانب سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز بعض علاقوں میں مسلسل پسپائی اختیار کر رہی ہیں۔

ادھر انگریزی اخبار گارڈین نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر انصاراللہ کے کنٹرول کو سعودی عرب اور امریکہ کے لیے "حکمتِ عملی کے اعتبار سے ایک تباہ کن صورتحال” قرار دیا ہے۔ گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ پیش رفت ایران اور اس کے اتحادیوں کو مغربی ممالک کی بحری تجارت کے لیے اہم دو سمندری گزرگاہوں پر "مکمل کنٹرول” کے ایک قدم اور قریب لے جاتی ہے۔ یہ دونوں گزرگاہیں جزیرۂ عرب کے دونوں جانب واقع ہیں: بحیرۂ احمر کے جنوبی سرے پر باب المندب اور خلیج فارس میں آبنائے ہرمز۔ اخبار کے مطابق عدن حکومت کی فورسز کے کمانڈر طارق صالح نے بھی المخا کے جنوب میں اپنی افواج کی اسٹریٹجک پسپائی کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ "مغربی ساحل پر مسلح افواج نے گذشتہ دنوں انصاراللہ کے حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے بھاری قیمت چکائی، جس میں ہلاکتیں اور زخمی شامل ہیں۔ ایران نے اس حملے کی منصوبہ بندی اور حمایت کی ہے۔” اسی حوالے سے اسرائیلی میڈیا نے بھی جمعرات کے روز، بحیرۂ احمر میں یمن کے مغربی ساحل کے مزید علاقوں پر یمنی مسلح افواج کے کنٹرول کے ممکنہ نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے اس پیش رفت کے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کی آمدورفت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اسی سلسلے میں اسرائیلی اخبار معاریف نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام انصاراللہ کی جانب سے بندرگاہی شہر المخا پر کامیاب کنٹرول حاصل کرنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular