
تحریر: سید انجم رضا
ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کی تاریخ کا وہ عظیم اور منفرد واقعہ ہے جس نے نہ صرف ایک صدیوں پر محیط بادشاہی نظام کا خاتمہ کیا بلکہ عالمی استکبار، استعمار اور لادینی نظریات کو بھی ایک واضح چیلنج دیا۔ اس انقلاب کی کامیابی کے بعد سے آج تک اس کی نوعیت اور کردار کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں اور دانستہ تحریفات سامنے آتی رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ دعویٰ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب میں تودہ پارٹی بھی شامل تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مؤقف تاریخی حقائق، فکری اصولوں اور عملی شواہد کی روشنی میں ایک واضح مغالطہ ثابت ہوتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تودہ پارٹی کیا تھی اور اس کا فکری پس منظر کیا تھا۔ تودہ پارٹی ایران کی ایک کمیونسٹ جماعت تھی جو مارکسزم اور لینن ازم سے متاثر تھی۔ اس جماعت کا نظریہ بنیادی طور پر مادیت، الحاد اور طبقاتی جدوجہد پر مبنی تھا۔ مذہب کو سماجی شعور کی ترقی میں رکاوٹ اور عوام کو بے خبر رکھنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تودہ پارٹی کی فکری ساخت اسلام، تشیع اور دینی قیادت کے بالکل برعکس تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عوام کی اکثریت دینی اقدار اور اہلِ بیتؑ سے گہری وابستگی رکھتی ہو، وہاں ایسے نظریے کی جڑیں مضبوط ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔
اس کے برعکس ایران کے اسلامی انقلاب کی فکری بنیاد اسلام پر استوار تھی۔ یہ انقلاب نہ کسی وقتی سیاسی اتحاد کا نتیجہ تھا اور نہ ہی محض معاشی محرومیوں کا ردِعمل، بلکہ یہ ایک گہری دینی بیداری اور شعوری تحریک تھی۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں علماء، طلبہ، تاجر، مزدور، خواتین اور نوجوان سب ایک ایسے مقصد کے لیے میدان میں آئے جس کا محور اسلام تھا۔ مساجد، حسینیات، مجالسِ عزا اور دینی اجتماعات انقلاب کی روح بنے۔ عاشورا اور کربلا کا فلسفہ ظلم کے خلاف قیام اور حق کی سربلندی کا عملی درس دے رہا تھا، جو عوامی تحریک میں واضح طور پر جھلکتا تھا۔
اسلامی انقلاب کے نعروں پر نظر ڈالیں تو حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ’’استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی‘‘ اور ’’نہ مشرق، نہ مغرب‘‘ جیسے نعرے اس بات کا اعلان تھے کہ یہ تحریک نہ سرمایہ دارانہ مغرب کی تابع ہے اور نہ کمیونسٹ مشرق کی۔ تودہ پارٹی چونکہ سوویت یونین سے فکری اور سیاسی طور پر قریب تھی، اس لیے اس کا وجود خود اس نعرے کی نفی تھا۔ اگر انقلاب میں واقعی تودہ پارٹی کا کوئی مؤثر کردار ہوتا تو “نہ مشرق، نہ مغرب” کا تصور کبھی مرکزی نعرہ نہ بنتا۔
یہ بات درست ہے کہ شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد کے دوران مختلف سیاسی گروہ متحرک ہوئے، مگر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انقلاب کی قیادت اور سمت کا تعین کون کر رہا تھا۔ قیادت امام خمینیؒ کے پاس تھی، جن کی ایک آواز پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے۔ تودہ پارٹی نہ عوامی قیادت فراہم کر سکی، نہ ہی اس کے پاس ایسا بیانیہ تھا جو عوام کے دلوں میں جگہ بنا سکتا۔ وہ زیادہ تر ایک حاشیائی گروہ کی حیثیت رکھتی تھی جو بدلتے حالات میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انقلاب کے بعد کے حالات اس غلط فہمی کو مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں۔ اسلامی نظام کے قیام کے بعد تودہ پارٹی نے ریاستی اداروں میں دراندازی اور خفیہ نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کی۔ جب اس کے سوویت یونین سے روابط اور جاسوسی سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے تو اسلامی جمہوریہ ایران نے سخت اقدامات کیے۔ 1983ء میں تودہ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی، اس کی قیادت کو گرفتار کیا گیا اور اسے اسلامی نظام کا دشمن قرار دیا گیا۔ یہ سب کچھ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تودہ پارٹی انقلاب کی شریک نہیں بلکہ انقلاب کے بعد خود اسی نظام کے خلاف سرگرم تھی۔
امام خمینیؒ کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح اور دو ٹوک تھا۔ آپؒ نے بارہا فرمایا کہ اسلامی انقلاب خالص اسلامی ہے اور کسی لادینی نظریے کے ساتھ اس کا کوئی سمجھوتہ نہیں۔ مارکسزم اور کمیونزم کو آپؒ نے اسلامی معاشرے کے لیے فکری طور پر خطرناک قرار دیا۔ یہ بیانات محض وقتی سیاسی حکمتِ عملی نہیں تھے بلکہ انقلاب کی نظریاتی روح کی ترجمانی کرتے تھے۔
درحقیقت تودہ پارٹی کی شمولیت کا تصور اس لیے پھیلایا جاتا ہے تاکہ اسلامی انقلاب کو ایک نظریاتی طور پر کمزور اور غیر واضح تحریک کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس طرح انقلاب کی دینی حیثیت کو مشکوک بنا کر نوجوان نسل میں فکری انتشار پیدا کیا جاتا ہے۔ مگر تاریخ، عوامی شعور اور عملی واقعات سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایک خالص دینی، عوامی اور اسلامی تحریک تھی۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ تودہ پارٹی نہ اسلامی انقلاب کی خالق تھی، نہ اس کی شریکِ قیادت اور نہ ہی اس کے فکری دھارے کا حصہ۔ وہ ایک ناکام، موقع پرست اور لادینی جماعت تھی جسے انقلاب نے خود مسترد کر دیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ اسی میں انقلاب کی اصل روح اور اس کا عالمی پیغام مضمر ہے۔


































