
تحریر: مریم شفیعی
24 فروری 2022ء کے دن روس نے اپنے مغربی ہمسایہ ملک یوکرین کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ اس وقت سے یورپ اس جنگ کے منفی اثرات کی لپیٹ میں ہے جن میں انرجی محصولات کی قیمتوں میں اضافہ، غذائی اشیاء کی قلت، توقع سے بڑھ کر بجٹ میں خسارہ اور مہنگائی میں اضافہ شامل ہیں۔ ان مسائل کے نتیجے میں دنیا کے بڑے بڑے اقتصادی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک آئندہ برس کیلئے اقتصاد سے متعلق اپنی رپورٹس اور پیشن گوئیوں میں ردوبدل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جنوری 2023ء میں ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس توقع کا اعلان کیا تھا کہ اس برس یورپی یونین کی معیشت میں 4.1 فیصد ترقی آئے گی۔ لیکن حال ہی میں ایک اور رپورٹ میں اس پیشن گوئی کی اصلاح کرتے ہوئے اسے 2.9 فیصد قرار دیا ہے۔
اسی طرح آئی ایم ایف نے بھی "زندگی کے اخراجات پر مبنی بحران کا مقابلہ” کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ سال 2023ء میں عالمی معیشت کی شرح 2.7 فیصد تک جا پہنچے گی۔ یاد رہے یہ شرح کووڈ 19 کے نتیجے میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معیشتی بحران سے صرف نظر کرتے ہوئے سال 2001ء سے لے کر اب تک کم ترین شرح ہے۔ ورلڈ بینگ گروپ کے اعلی سطحی ماہر اقتصاد اینڈرمیٹ گل نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا کے اکثر لوگوں کیلئے 2023ء کا سال اقتصادی جمود کا سال ہو گا جس کی اصلی ترین وجہ امریکہ، یورپی یونین اور چین کے حالات ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی معیشت کا 60 فیصد حصہ ان تین قوتوں پر وابستہ ہے اور موجودہ اقتصادی مسائل کا اصل سبب گذشتہ برس این تینوں قوتوں کی پالیسیاں ہے۔
اینڈرمیٹ گل نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ چین کی جانب سے کووڈ 19 وبا کو کنٹرول کرنے کیلئے انجام پانے والے اقدامات، امریکہ کی جانب سے کرونا وبا کے بعد شدید مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں اور یوکرین جنگ نے عالمی اقتصاد پر سب سے زیادہ منفی اثرات ڈالے ہیں۔ یہ دراصل عالمی اقتصاد کو لگنے والے تین بڑے دھچکے ہیں۔ یوں 2022ء میں روزمرہ زندگی کے اخراجات پر مبنی بحران شدید ترین سطح پر پہنچا اور اب تک انرجی محصولات اور غذائی اشیاء کی قیمتیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ پر شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021ء سے لے کر اب تک یورپ میں گیس کی قیمت چار گنا بڑھ چکی ہے جبکہ روس نے یورپ کو گیس فراہمی 2021ء کی نسبت 20 فیصد کی سطح تک کم کر دی ہے۔ یوں اس سال یورپی ممالک انرجی محصولات کی شدید ترین قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر نواک نے کہا ہے: "ماسکو نے 2022ء کے آخر تک گیس کی برآمدات میں 4 فیصد کمی کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ کو آئندہ برس مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔” آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2022ء کا موس سرما یورپ کیلئے بڑا چیلنج تھا لیکن 2023ء کا موسم سرما مزید بدتر ثابت ہو گا لہذا یورپی ممالک کے اقتصادی حکام کو اس بارے میں موثر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ یورپ سمیت مختلف ممالک میں لوگوں پر اقتصادی دباو اس قدر شدید تھا کہ اسے کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات انجام دیے گئے۔ امریکہ، یورپی یونین کے رکن ممالک اور برطانیہ کے اسٹیٹ بینکوں نے شرح سود میں بالترتیب 4.5، 2.5 اور 3.5 فیصد تک اضافہ کر دیا۔ اس کا نتیجہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا۔
یورپ کے سنٹرل بینک نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ انرجی کے بحران، عالمی سطح پر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال، عالمی معیشت کے کمزور ہو جانے اور مالی وسائل میں کمی کے باعث یورو والا منطقہ جاری اور آئندہ سہ ماھی میں جمود کا شکار رہے گا۔ اس بینک نے اپنی گذشتہ رپورٹ میں اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ یورپی معیشت 2022ء میں 3.4 فیصد، 2023ء میں 0.5 فیصد اور 2024ء میں 1.8 فیصد ترقی کرے گی۔ دوسری طرف یورپ اور مرکزی ایشیا میں بچوں کی غربت میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین جنگ اور اس سے پیدا شدہ شدید مہنگائی نے 40 لاکھ بچوں کو شدید غربت کا شکار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ 22 یورپی ممالک سے حاصل شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین جنگ کا سب سے زیادہ منفی اثر بچوں پر پڑا ہے۔
یورپی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک سروے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت یورپی شہریوں کیلئے سب سے بڑی پریشانی انرجی کے بحران سے پیدا شدہ مشکلات ہیں جن میں مہنگائی سرفہرست ہے۔ اس سروے رپورٹ میں شرکت کرنے والے 26 ہزار یورپی شہریوں میں سے 93 فیصد نے روزمرہ اخراجات بڑھ جانے پر شدید پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو حکومتوں کے خلاف احتجاج پر مجبور کر دیا ہے۔ پولیٹیکیو مجلے کی رپورٹ کے مطابق روم، میلان اور نیبل میں مظاہرہ کرنے والی اٹلی کے شہریوں نے بجلی اور گیس کے بل جلا دیے۔ گذشتہ برس اکتوبر میں فرانس میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت کے خلاف اعتراض کیا۔ اسی طرح نومبر 2022ء میں اسپین میں تنخواہیں بڑھانے کیلئے ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ مختلف یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔


































