Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

روانہ دہی کھانے کی عادت صحت کیلئے مفید

اگر آپ روزانہ دہی کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ مزیدار غذا آپ کو ڈپریشن سمیت مختلف دماغی مسائل سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل این پی جے مینٹل ہیلتھ ریسرچ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹیریا دماغی صحت کو درست رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
دہی، پنیر اور دیگر خمیر شدہ غذاؤں یا سپلیمنٹس میں موجود پرو بائیوٹیکس سے ڈپریشن اور دیگر دماغی صحت کے لیے مسائل سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
لوگوں کی وہ عام ترین عادت جو فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پرو بائیوٹیکس سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے منفی احساسات کو بڑھنے سے روکنا آسان ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق میں جوان صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو ایک ماہ تک روزانہ پروبائیوٹیکس سپلیمنٹس کا استعمال کرایا گیا۔
ان سپلیمنٹس میں Lactobacillus اور Bifidobacterium جیسے بیکٹیریا موجود تھے جو دہی اور پنیر میں بھی موجود ہوتے ہیں۔
محققین نے ان افراد کے مزاج کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کی اور انہیں اپنے احساسات کو تحریر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
2 ہفتوں تک پروبائیوٹیکس کے استعمال کے بعد تحقیق میں شامل افراد نے منفی احساسات کی شدت میں کمی کو رپورٹ کیا۔
اس کے مقابلے میں ایک الگ گروپ میں شامل افراد کو placebo ٹیبلیٹس کا استعمال کرایا گیا، جن میں کسی قسم کی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس سے ثابت ہوا کہ صحت کے لیے مفید بیکٹیریا ہمارے مزاج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ پروبائیوٹیکس سے صرف منفی احساسات میں کمی آتی ہے جبکہ antidepressant ادویات سے منفی اور مثبت جذبات دونوں میں کمی آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ پروبائیوٹیکس کو antidepressants ادویات کا متبادل سمجھا جائے مگر دہی، پنیر یا سپلیمنٹس کا استعمال نقصان دہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پروبائیوٹیکس کے استعمال سے تناؤ یا انزائٹی جیسے مسائل کی شدت میں کمی آتی ہے جبکہ ڈپریشن سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
اسی طرح یہ بیکٹیریا جذباتی تفصیلات کا تجزیہ کرنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں، یعنی لوگوں کو جذباتی طور پر زیادہ ذہین بناتے ہیں اور ان کے لیے اشاروں کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular