
نیویارک: ایران نے خلیج فارس کے کئی عرب ممالک اور اردن پر جارحیت میں معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ممالک کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سربراہ اور سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہاہےکہ جارحیت میں تعاون کرنے والے ممالک بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کو مادی اور اخلاقی نقصان کا مکمل ازالہ کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کویت اور بحرین کی جانب سے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے حالیہ خطوط کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں اصل مسئلے یعنی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں علاقائی ممالک کی شمولیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بلااشتعال اور غیرقانونی حملے کیے، جنہیں بعض علاقائی حکومتوں کی حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر اور سینٹکام کے اعلیٰ حکام کے حالیہ بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک جنگ کے دوران واشنگٹن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے تھے۔


































