
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نےکہاہے کہ آئمہؑ کا بنیادی ہدف اسلامی معاشرہ تشکیل دینا تھا۔ اقتدار کے بغیر اسلامی معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔ امام رضاؑ بین الاقوامی کانفرنس کے منتظمین سے گفتگو میں ولی امر مسلمین نے کہاکہ آئمہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے کی ضروری ہے۔ بعض آئمہ کی زندگی کے بارے میں زیادہ گفتگو اور بحث ہوئی ہے لیکن بعض آئمہ ابھی تک غیر معروف ہیں چنانچہ امام حسن مجتبی، حضرت امام موسی کاظم اور حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام کی عظمت سے دنیا واقف نہیں ہے۔ ان آئمہ اطہار کے بارے میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ ولی امر مسلمین نےکہا کہ ائمہؑ کی زندگی کے بارے میں تین حوالوں سے تین پہلوؤں سے کام ہونا چاہئے۔ پہلا پہلو معنوی اور الٰہی پہلو ہے۔ بعض اوقات ان کے معنوی اور الٰہی پہلو کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے لیکن بہت ضعیف ہوتی ہے۔ اس حوالے سے کسی قسم کا تقیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی عظمت کو بیان کیا ہے ہمیں بھی اسی طرح بیان کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ائمہؑ کی زندگی کا دوسرا پہلو سیاسی پہلو ہے۔ یہ اہم پہلو ہے۔ ہمیں مطالعہ کرنا چاہئے کہ انہوں نے حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کیسی پالیسی اپنائی۔ ان کی زندگی میں اہداف تھے۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل آئمہ کا بنیادی ہدف تھا۔ معاشرہ تشکیل دینے کے لئے اقتدار اور حکومت ضروری ہے لہٰذا آئمہ اسلامی حکومت کی تشکیل کے درپے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئمہؑ کی زندگی کا ایک اہم پہلو امامت ہے۔ امامت کا مطلب دین اور دنیا میں رہنمائی کرنا۔ آئمہ لوگوں کی دینی اور دنیوی امور میں رہنمائی کرنا چاہتے تھے۔


































