
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے سعودی عرب، ایران ، ترکی کے وزرائے خارجہ نے اہم ملاقات کی۔ ملاقات او آئی سی کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ہوئی جس میں دو طرفہ امور اور معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے افغانستان سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کی وزراء خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کے فیصلہ پر پاکستان کی تعریف کی جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے ایران کے مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا۔ملاقات کے دورن اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں معاشی تباہی روکنے کے لیے فوری عالمی امداد ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں طویل مدتی تعمیرنو اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے اضافی طریقے تلاش کرے، افغانستان میں معیار زندگی کو بہتر بنانے اور معاشی انہدام سے بچنے کیلئے بین الاقوامی انسانی امداد کی فوری ضروری ہے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں معیار زندگی کو بہتر بنانے اور معاشی انہدام سے بچنے کیلئے بین الاقوامی انسانی امداد کی فوری ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غیر معمولی اجلاس سے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو افغانستان کی مدد کا موقع ملے گا۔ وزیراعظم نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کو دورہ کی دعوت دی۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کی سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے پاکستان سعودی عرب تعلقات کی خصوصی اہمیت پر زور دیا جو قریبی برادرانہ تعلقات، تاریخی روابط اور عوامی سطح پر حمایت پر مبنی ہے۔


































