
نیویارک : عالمی فوجداری عدالت کے تین ججوں نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ججوں کا مؤقف ہے کہ ان پر عائد پابندیاں غیرقانونی ہیں اور ان کا مقصد عدالتی فیصلوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔ عالمی فوجداری عدالت کے جج کمبرلی پروسٹ، سولومی بالونگی بوسا اور رین ایڈیلیڈ سوفی الاپینی گانسو نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کی مالی اور ذاتی مفادات کو نشانہ بنا کر عدالت پر ماورائے عدالتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ ججوں کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد انہیں ماضی کے عدالتی فیصلوں پر سزا دینا ہے۔ ان فیصلوں میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹِ گرفتاری اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ شامل ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ امریکی پابندیاں متاثرہ افراد کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ پابندیوں کے باعث بینکاری خدمات، آن لائن پلیٹ فارمز اور مالی لین دین تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے تنخواہوں کی وصولی اور بین الاقوامی سفر بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔


































