
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
افغانستان کے شیعہ علماء کی کونسل نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ محرم کے سوگ کے انعقاد پر عائد بعض پابندیوں پر نظرثانی کریں۔ اس کونسل نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ طالبان حکومت کے عہدیداروں نے محرم کی انتظامی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ ملاقات میں محرم کے مقامات اور پروگراموں کو سکیورٹی خطرات کے پیش نظر محدود کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا، لیکن اس اجلاس میں شیعہ علماء کونسل کے سربراہ، ممبران اور ممتاز شیعہ علماء نے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے محرم کی ماتمی تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کو قبول نہیں کیا اور اس سلسلے میں طالبان عہدیداروں سے مشاورت کے لئے ایک سات رکنی وفد تشکیل دیا، جو افغان شیعوں کا پیغام طالبان حکومت تک پہنچائیں گے۔
طالبان کی جانب سے محرم کی تقریبات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ اس کے سیاسی، عسکری اور مقامی حکام نے بارہا شیعہ حقوق کی پاسداری اور خاص طور پر محرم کے پروگراموں میں عمل کی آزادی پر زور دیا ہے۔ طالبان نے کن وجوہات کی بنا پر محرم کے پروگراموں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فیصلہ سازی میں طالبان کے ارکان میں کوئی متفقہ پوزیشن نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ طالبان شیعوں کے حقوق کے احترام پر یقین نہیں رکھتے۔ تیسرا، وہ امام حسین علیہ السلام کے سوگ میں شیعوں کے پروگراموں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ چوتھا، طالبان افغانستان میں دوسرے مسالک کی مذہبی روایات کو کمزور کرکے صرف اپنے عقائد کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیاسی امور کے ماہر عارف اکرمی کہتے ہیں: "ہر سال شہادت امام حسین (ع) کی عزاداری کے پروگراموں میں افغانستان کے عوام بھرپور طریقے سے شرکت کرتے ہیں اور لوگ امام حسین (ع) کی محبت کے لیے عزاداری کی تقریب کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ طالبان سکیورٹی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔” اسی وجہ سے افغانستان کی شیعہ علماء کونسل نے طالبان کے سابقہ تعاون کو سراہتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ مذکورہ پابندیوں پر نظرثانی کریں، تاکہ حسینی (ع) عزادار گذشتہ سالوں کی طرح اپنے پروگرام انجام دے سکیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت (ع) افغانستان کے مسلمان عوام کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں، سوگ کے پروگراموں کے انعقاد پر پابندی افغانستان کی مسلم کمیونٹی کو قبول نہیں ہوگی۔
افغانستان کی شیعہ علماء کونسل کی جانب سے اس ملک کے تمام سوگوار عوام سے محرم اور عاشورہ کے ماتمی پروگراموں کے نفاذ میں طالبان قوتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ اپیل اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ شیعہ مسلمان مکمل طور پر قانون کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور طالبان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ محرم الحرام اور عاشورہ کے ماتمی پروگراموں کے انعقاد میں تعاون کریں گے اور محرم کے پروگراموں کی سکیورٹی کے نام پر اعلان کردہ پابندیاں منسوخ کریں گے۔
سیاسی امور کے ماہر "سید عیسیٰ مزاری حسینی” کہتے ہیں: "افغانستان کے عوام محرم کے پروگراموں کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کے سلسلے میں طالبان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ سب لوگ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے عزاداری کے پروگرام میں شرکت کرسکیں۔ عائد کردہ پابندیوں کی منسوخی یقینی طور پر افغان معاشرے میں طالبان کی سماجی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے کارگر ثابت ہوگی۔ طالبان کی کارکردگی بنیادی طور پر سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر مرکوز تھی، جو کہ افغان معاشرے کے لیے اچھا پیغام نہیں۔”
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان کہ شیعہ محرم منانے کے لیے آزاد ہیں اور حکومت مذہبی آزادی کی حمایت کرتی ہے، عزاداری کو محدود کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے۔ طالبان کی جانب سے سوگ کی تقریبات کے انعقاد کی آزادی کے لیے ایک متفقہ فیصلے کا اعلان افغانستان کے کثیر النسل اور کثیر المذہبی معاشرے کی آراء اور نظریہ کا احترام سمجھا جائے گا۔ شہداء کربلا کی تعزیتی تقاریب کے شاندار انعقاد میں عوام کی شرکت قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کے خطرات اور دہشت کی فضا کو پیدا ہونے سے بھی روکے گی، ماضی میں بھی عدم تحفظ اور دہشت گردانہ حملوں کے تسلسل کے باوجود شہداء کربلا کے تعزيتی پروگراموں کے انعقاد سے قومی یکجہتی کو تقویت ملی تھی۔
اہل بیت عصمت و طہارت کے چاہنے والوں کا عزم حملوں اور دھمکیون سے کمزور نہیں پڑتا اور وہ اس کے لئے بڑي سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ لہٰذا افغانستان کے مسلمان عوام توقع کرتے ہیں کہ طالبان ایک حکومت کے طور پر محرم کے ماتمی پروگراموں کو محدود کرنے کے بجائے افغان شہریوں کی جانوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ طالبان کے کئی رہنماء شیعہ مسلمانوں کو اپنے مسلمان بھائي قرار دے چکے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے اہم رہنما عبد السلام حنفی نے کہا ہے کہ شیعہ اور سنی دونوں مسلمان ہیں، اس لئے ان کے مابین اتحاد ضروری ہے۔ عبد السلام حنفی نے کہا کہ افغانستان کے عوام کو چاہیئے کہ وہ ایسا کام کریں، جس سے اسلام اور افغانستان کے دشمنوں کو قوم و زبان و نسل کے ذریعے اپنے قدم جمانے کا موقع نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کسی بھی طور پر افغانستان کے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
مولوی عبد السلام حنفی نے کہا تھا کہ طالبان کو شیعوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ کہ بہت سارے شیعہ اور ہزارہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بغیر کسی پریشانی کے رہتے ہیں اور طالبان ان کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بنے ہیں۔ مولوی عبدالسلام حنفی نے کہا کہ افغانستان میں فقہ حنفی کے نفاذ کے مطالبے کے اصرار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اہل تشیع کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "افغانستان میں، شیعوں اور سنیوں کے مابین کوئی تفریق اور اختلاف موجود نہیں ہے اور ہم کسی کو بھی مذہبی اختلافات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔” بہرحال اب وقت ہے کہ طالبان اپنے ان بیانات کو سچ ثابت کریں کہ شیعہ اور سنی دونوں مسلمان ہیں، اس لئے ان کے مابین اتحاد ضروری ہے۔ محرم الحرام وحدت کا بہترین ذریعہ ہے۔


































