
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
سوشل میڈیا پر بیٹھا تھا کہ آر ٹی کے پیج سے الرٹ آنا شروع ہوگیا، روس میں کوئی گڑ بڑ ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کو فالو کرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ روستوو آن ڈان شہر میں ویگنر جنہیں کرائے کے فوجی بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے بغاوت کر دی ہے۔ پورے شہر پر ان کا قبضہ ہوچکا ہے۔ شہر میں ان کے آنے پر جشن منایا گیا ہے اور اسی طرح کی بہت سی سنی سنائی باتوں کا ملغوبہ سا سوشل میڈیا پر پھیل گیا۔ نیٹو کے نیوز ونگ نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ اسے روسی صدر کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا اور یہ بات بھی پھیلائی گئی کہ اب یہ ماسکو کی طرف جائیں گے، جہاں سے روسی صدر پیوٹن پہلے ہی سینٹ پیٹرز برگ کی طرف چلے گئے ہیں۔ ماسکو کی سڑکوں پر بھی روسی فوج تعینات دکھائی گئی، بہت سے لوگوں کو لگا کہ روس کو جو شکست یوکرین میں نہیں دی جا سکی، وہ اب اندرونی خلفشار کی وجہ سے ممکن ہو جائے گی۔
بہت سے لوگوں نے ویگنر کا نام ہی پہلی بار سنا ہوگا، ان کا تعارف کرانا بہت ضروری ہے۔ یہ روس کی فوج سے ہٹ کر لڑنے والا ایک طاقت ور گروہ ہے، جس نے مختلف جنگوں میں روس کے لیے بڑی بہادری دکھائی ہے۔ یوکرین جنگ میں تو یہ گروہ فرنٹ لائن پر لڑا، جب یہ لگ رہا تھا کہ نیٹو اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے آنے والے جدید ترین اسلحے اور تربیت کے بعد اب روسی فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی تو ایسے میں اس گروپ نے اس خیال کو غلط ثابت کیا اور بہت بہتر جنگ لڑی۔ اس گروپ نے ہی باخموت شہر پر قبضہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس شہر پر قبضے کی وجہ سے ہی روسی فوج کے قدم مضبوط ہوئے اور جنگ میں لگا کہ اب روسی فوج کا پلڑا بھاری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے ان جنگجووں کو 2014ء میں شام کی جنگ میں بھی بھجوایا گیا تھا، جہاں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح روس کے کریمیا پر قبضے میں بھی اس گروہ کا بنیادی کردار تھا۔ یہ بڑی جانفشانی سے لڑتے ہیں، مگر یہ روس کی فوج کا باقاعدہ حصہ نہیں ہیں۔ یوں سمجھ لیں جیسے حشد الشعبی ابتداء میں ایک عوامی تحریک تھی، جو داعش جیسے خونخوار گروہ کے ساتھ لڑنے کے لیے معرض وجود میں آئی تھی اور اب وہ عراقی فوج کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ گروہ ابھی تک روسی فوج کا حصہ نہیں بنا۔ روسی فوج کو اس گروہ کی بغاوت کا علم ہوچکا تھا، اسی لیے انہیں 10 جون کہا گیا کہ یہ ایک فارم پر دستخط کر دیں، جس کے مطابق اب سے وہ روسی افواج کا حصہ ہوں گے۔ یہ بہترین حکمت عملی تھی کہ انہیں کسی نظم و ضبط کے تحت لایا جائے، مگر یہ لوگ بہت جری ہوچکے تھے۔ ماضی کے کردار کی وجہ سے لوگ اس گروہ کے سربراہ پریگوزن کی بات سنتے تھے۔
اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد روسی صدر نے قوم سے خطاب کیا اور بغاوت کرنے والوں کو تنبیہ کی کہ ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے یہ بہت ہی پریشان کن صورتحال ہوتی ہے کہ جب وہ حالت جنگ میں ہے، اس وقت اس کے اندر ایک طاقت ور گروہ بغاوت کر دے۔ روس کے دشمن خوش اور دوست پریشان تھے کہ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس صورتحال میں بیلاروس کے رہنماء الیگزینڈر لوکاشینکو منظر عام پر آئے اور انہوں نے پریگوزن جو اس گروہ کا سربراہ ہے، اسے بیلا روس آنے کا کہا اور باقی سارے اس گروہ ممبرز اپنی بیرکوں میں واپس چلے گئے۔ طے یہ پایا کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ بحران جتنی جلدی اٹھا تھا، اتنی ہی جلدی حل کر لیا گیا اور روس کا اندرونی امن خراب نہیں ہونے دیا گیا۔ میرے خیال میں یہ پیوٹن کی بہت بڑی کامیابی اور نیٹو ممالک کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ یہ جسے موقع سمجھ رہے تھے، وہ ٹل گیا۔
یوکرین جنگ پر اس واقعے کے اثرات کا ہونا نیچرل ہے۔ یوکرین اور روس دونوں کے فوجیوں پر اس کے اثرات ہوں گے۔ یوکرین کو ہی لے لیں، وہ اسے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی حمایت میں اضافہ کرتے ہوئے روس کی شکست کو تیز کرے۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا کہ ہم موجودہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ روس نے یوکرین میں جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اب ویگنر گروپ اور پوتن حکومت میں تناو آگیا ہے۔ اسی طرح امریکی صدر بڑی دور کی لائے کہ روس کے عدم استحکام سے اس کے ایٹمی ہتھیار ان جنگجووں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں، جس سے دنیا کو بڑا نقصان ہوگا۔
معاہدہ تو یہی ہوا ہے کہ اب ان جنگجووں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی، یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ روسی صدر کے بیس سالہ اقتدار میں یہ مشکل ترین مرحلہ تھا، اگرچہ انہوں نے بڑی حکمت عملی سے اسے ختم کر دیا، مگر یہ ان کی قیادت کے لیے کئی چیلنجز چھوڑ گیا ہے۔ یہاں یہ بات کرنا بھی ضروری ہے کہ جس طرح امریکہ اور نیٹو نے خواب دیکھنا شروع کر دیئے کہ اب روس اندرونی خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا اور اندر سے عوام روسی صدر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اب روسی صدر پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور محاذ جنگ پھر سے زیادہ گرم ہو جائے گا۔ جنگ تو بہرحال جنگ ہے، جو جاری ہے اور ہر فریق اپنے پتے کھیل رہا ہے، البتہ فی الحال مغرب کا پتہ پوتن نے کاوئنٹر کر لیا ہے۔


































