
تہران : افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایران کے دورے میں اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی اور دوطرفہ امور, مالی بحران اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا. ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق طالبان وزیر خارجہ کے دورہ تہران کا مقصد ایران کا افغانستان کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے جامع اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام کے تعلق سے طالبان قیادت کے بیانات کا خیر مقدم کیااور اس حوالے سے مسلمہ معیارات کا خیال رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے افغانستان کے لئے ایران کی انسانی امداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران خود تو اس امداد کا سلسلہ جاری رکھے گا ہی، ساتھ میں افغان عوام کی مدد اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے علاقائی گنجائشوں سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔ انہوں نے افغانستان کے منجمد اثاثوں پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ منجمد اثاثوں کو انسانی مقاصد اور افغانوں کی حالات زندگی کی بہتری کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بہادر افغان قوم کی لڑائی نے ثابت کیا کہ کوئی بھی بیرونی طاقت افغانستان پر قبضہ کر کے وہاں حکومت نہیں کر سکتی.اس موقع پر طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی گزشتہ چار دہائیوں میں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین پائے جانے والے اشتراکات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ افغانستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور طالبان حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہوگا.


































