
تحریر: محمد علی زادہ
جب سے امریکہ میں صدر جو بائیڈن برسراقتدار آئے ہیں امریکی حکومت کی جانب سے اسرائیل سے بے توجہی برتی جا رہی ہے۔ اس بے توجہی کے بارے میں دو قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق اس بے توجہی کی وجہ امریکہ کی جانب سے یوکرین جنگ کے باعث روس کے مقابلے میں پراکسی وار پر پوری توجہ مرکوز کرنا ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت صدر جو بائیڈن کا وہ بیان ہے جو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا اور کہا کہ وائٹ ہاوس کی خارجہ پالیسی کو درپیش موجودہ چیلنج روس کا مقابلہ کرنا اور چین سے اقتصادی میدان میں مقابلہ بازی کرنا ہے۔ اس بارے میں ایک اور رائے بھی پائی جاتی ہے جس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں موجودہ کشیدگی کی وجہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی کابینہ سے عدالتی اصلاحات موخر کر دینے کا مطالبہ ہے۔
جب سے امریکی صدر جو بائیڈن نے بنجمن نیتن یاہو اور اس کی کابینہ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کے ایشو پر نرمی کا مظاہرہ کریں اور فی الحال پیچھے ہٹ جائیں، اس وقت سے خود بنجمن نیتن یاہو اور اس کی کابینہ میں شامل وزراء نے امریکی صدر پر شدید تنقید شروع کر دی ہے۔ صیہونی رژیم کے وزیر داخلہ ایتمار بن گویر نے امریکی صدر جو بائیڈن کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے اور وہ کسی بھی بیرونی قوت کا دباو یا ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا چاہے وہ اس کا بہترین دوست ہی کیوں نہ ہو۔ اس بات سے چشم پوشی کرتے ہوئے کہ مذکورہ بالا دو آراء میں سے کون سی رائے حقیقت سے زیادہ قریب ہے، بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ مختلف محاذوں پر بہت زیادہ مشکلات کے پیش نظر امریکی حکمرانوں نے مشرق وسطی میں تناو کم کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
لہذا خطے کے جدید پس منظر میں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم خود کو ایک اسٹریٹجک بند گلی میں محبوس ہونے کا احساس کر رہی ہے جس کے نتیجے میں خطے میں بدامنی پھیلانے اور ایران فوبیا کو ہوا دینے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکہ اسرائیل تعلقات کے پیرائے میں بھی بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
1)۔ امریکہ کی غاصب صیہونی رژیم پر کھلم کھلا تنقید
امریکی صدر جو بائیڈن نے صیہونی رژیم کی بحرانی صورتحال کے پیش نظر حکمفرما کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بنجمن نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اسے عدالتی اصلاحات کا ایشو چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے وسیع عوامی احتجاج جاری ہے جبکہ صیہونی کابینہ بھی ٹوٹنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
دوسری طرف صیہونی کابینہ کے حامی دائیں بازو کے شدت پسند عناصر نے امریکی صدر کے اس بیان کے خلاف مظاہرہ کیا اور امریکی مداخلت کی مذمت پر مبنی نعرے لگائے۔ اس مظاہرے میں امریکی صدر کی ایسے توہین کی گئی جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
2)۔ امریکہ میں مقیم یہودیوں کا نیتن یاہو سے اختلاف
صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے مخالفین کی سب سے بڑی تعداد امریکہ میں مقیم یہودیوں پر مشتمل ہے۔ ان میں معتدل اور سیکولر یہودی شامل ہیں جو امریکہ میں مقیم یہودیوں کا 72 فیصد ہیں۔ دوسری طرف امریکہ میں مقیم آرتھوڈوکس شدت پسند یہودی نیتن یاہو کے حامی ہیں لیکن ان کی تعداد 28 فیصد سے بھی کم ہے۔ امریکی صدر اور صیہونی وزیراعظم کی ایکدوسرے کے خلاف بیان بازی نے امریکہ میں بھی شور مچا رکھا ہے۔ ریپبلکنز جو بائیڈن پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس اس کی حمایت میں مصروف ہیں۔
3)۔ ابراہیم معاہدہ کا کوما میں چلے جانا
عرب اور مسلمان ممالک سے اسرائیل کے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی مہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن اب یہ مہم تقریبا ختم ہو چکی ہے جبکہ اس مہم میں شامل ہونے والے عرب ممالک بھی اپنے کئے پر پشیمان دکھائی دیتے ہیں۔ جب سے بنجمن نیتن یاہو برسراقتدار آیا ہے عرب اسرائیل دوستانہ تعلقات کی مہم مزید ابتر صورتحال کا شکار ہو چکی ہے۔ خود بنجمن نیتن یاہو نے ہی ستمبر 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور اس کے بعد نیفتالی بینٹ اور یائیر لاپید کی حکومتوں میں یہ مہم کچھ آگے بڑھی تھی لیکن اس وقت یہ مہم کوما کا شکار ہو چکی ہے۔ دوسری طرف صیہونی حکمران تصور کر رہے تھے کہ وہ عرب ممالک کو قریب لا کر ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچانک معاہدہ طے پانے جانے سے ساری صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔
4)۔ اندرونی اور بیرونی سطح پر صیہونی رژیم کو درپیش چیلنجز
نیتن یاہو نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو درپیش سکیورٹی مسائل کا 90 فیصد حصہ ایران اور اس کی حمایت یافتہ قوتوں کی جانب سے ہے۔ اس نے کہا کہ ایران سے کسی قسم کا معاہدہ ہمیں اس بات سے نہیں روکے گا کہ اپنے دفاع کیلئے مناسب اقدامات انجام نہ دیں۔ دوسری طرف مقبوضہ فلسطین کے اندر بنجمن نیتن یاہو اور اس کی شدت پسند کابینہ کے خلاف گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل ہفتہ وار وسیع عوامی مظاہرے جاری ہیں۔ مزید برآں، اسرائیلی چھاونیوں سے اسلحہ چوری ہونے کے واقعات میں تیزی آئی ہے اور صیہونی فورسز کی جانب اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے شہادت طلب کاروائیاں بھی بہت حد تک بڑھ گئی ہیں۔ یہ تمام امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غاصب صیہونی رژیم شدید بنیادی مسائل کا شکار ہے اور اسے ایران کے مقابلے میں اسٹریٹجک ناکامیوں کا سامنا ہے۔


































