
تحریر: بثینہ شعبان (شام کے صدر کی مشیر)
27 اور 28 جولائی 2023ء کے دنوں میں سینٹ پیٹرزبرگ میں روس اور افریقی ممالک کے سربراہان مملکت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ مغربی طاقتوں کی جانب سے شدید دباو کے باوجود اس اجلاس میں 50 افریقی ممالک سے اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں کے علاوہ افریقہ کی اہم علاقائی تنظیموں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ یوں مغربی حکمرانوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود روس اور افریقہ کا دوسرا اجلاس کامیابی سے منعقد ہوا۔ یاد رہے اس کا پہلا اجلاس 2019ء میں سوچی میں منعقد ہوا تھا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ روس اور افریقی ممالک کے درمیان جاری باہمی تعاون حالیہ چند برسوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور براعظم افریقہ عنقریب ملٹی پولر نظام کی حامل دنیا میں ایک اہم قطب بن کر سامنے آئے گا۔
روس کے صدر نے مزید کہا: "ماسکو اور افریقی ممالک کے درمیان 2026ء تک مشترکہ لائحہ عمل طے پا چکا ہے جس کا مقصد تجارت کی سطح میں اضافہ کرنا، انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا اور مقامی کرنسی میں کاروبار کو فروغ دینا ہے۔ بعض افریقی رہنماوں نے بھی باہمی تجارت سے ڈالر کو ختم کرنے پر زور دیا اور عالمی استعماری نظام سے مقابلہ کرنے نیز مغرب کی جانب سے اخلاقی اور انسانی اقدار پامال کرنے کے مقابلے میں مقامی ثقافت، علم اور اقدار پر توجہ دینے پر تاکید کی۔ اس اجلاس کے بعد آئندہ مہینے جنوبی افریقہ میں بریکس تنظیم کا اہم اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ اگرچہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس اجلاس پر بھی روس کی سوچ اور منطق ہی حکمفرما رہے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بریکس اجلاس ایسے ممالک کے سامنے بہت سے دروازے کھول دے گا جو خود کو مغربی میراث کے بوجھ سے نجات دلانے کے درپے ہیں اور ملٹی پولر دنیا کی تشکیل میں سنجیدگی سے شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسی دنیا جو مستقل رفتار سے تشکیل پا رہی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں افریقی رہنماوں نے یوکرین جنگ کا راہ حل پیش کیا جس کے بارے میں روسی صدر نے کہا: "ماضی میں ثالثی کا کردار صرف ایسے ممالک ادا کرتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ڈیموکریسی کو فروغ دے رہے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ہم آپ کے راہ حل کو احترام کی نظر سے دیکھیں گے اور دلچسپی سے اس کا جائزہ لیں گے۔” مغربی استعماری طاقتیں ملٹی پولر دنیا کی تشکیل کو روکنے کی ناکام کوشش کے طور پر افریقہ میں روس کی موجودگی کو صرف ویگنر فورسز کی موجودگی کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یوں عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کیلئے کوشاں ہیں۔
وہ حتی چین کی موجودگی کو بھی صرف تائیوان کے بارے میں گفتگو کی حد تک محصور کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران کے بارے میں ان کی پالیسی وہاں موجود ہنگاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے۔ مزید برآں، مغربی حکمران بھول چکے ہیں کہ ان کا مسئلہ صرف روس، چین، ایران اور بورجام نہیں بلکہ ان کا اصل مسئلہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کا ترقی کرتا شعور ہے۔ دنیا کے انسان ان جنگوں کے تباہ کن اثرات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں جو مغربی طاقتوں نے ان کے گھر میں گھس کر شروع کی تھیں۔ اسی طرح وہ مغربی استعماری طاقتوں کی جانب سے اپنے وسائل کی لوٹ مار کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی اور غربت کو بھی سمجھ چکے ہیں۔ کیا مغربی حکمرانوں نے لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ممالک میں ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کا شاندار اور پرتپاک عوامی استقبال نہیں دیکھا؟
کیا مغربی حکمرانوں نے ان ممالک کے ساتھ ایران کے بڑی تعداد میں انجام پانے والے معاہدے دیکھے ہیں؟ بے شک مغربی حکمرانوں نے ان دوروں اور اس دوران طے پانے والے معاہدوں کے ذریعے ان ممالک کے عوام کا اعلی شعور اور ایران کے ساتھ ان کی مشترکہ قدروں کو درک کیا ہو گا۔ جب چین امریکی وزیر دفاع کی جانب سے دورے کی درخواست پانچ بار مسترد کرتا ہے اور چین کا صدر شی جن پنگ خوش ہو کر ہنری کیسنجر کا استقبال کرتا ہے تو اس میں امریکہ کیلئے اہم پیغام ہے۔ چینی صدر نے ہنری کیسنجر سے ملاقات میں کہا: "پرانے دوست ہر گز ایکدوسرے کو نہیں بھولتے۔” چین اور امریکہ ایک بار پھر دو راہے پر کھڑے ہیں کہ کہاں جائیں اور دونوں ممالک کے حکمرانوں کو ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ چینی رہنما کیسنجر کا بہت احترام کرتے ہیں اور وہ بہت زیادہ چین کا دورہ بھی کرتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے عوام سے لے کر ایشیا اور افریقہ کے عوام تک، سب نے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مدد سے مغربی میڈیا کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ آج مغربی حکمرانوں کا مسئلہ صرف روس، چین یا برازیل کے صدور مملکت سے نہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے عوام سے ہے اور یہ ان عوام کی شجاعت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ عوام عالمی سطح پر نئی دنیا میں تجارت، اقتصاد، کرنسی، تعلیم، ثقافت اور اخلاق جیسے شعبوں میں متحدہ ہونے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایسی دنیا جو مغرب کے جھوٹ اور منافقت کی مخالف ہے اور اس میں عالم بشریت کی بھلائی، فلاح و بہبود اور سعادت کیلئے واضح قوانین پائے جاتے ہیں۔ ممکن ہے بعض سوچیں کہ اس جانب حرکت بہت سست روی سے ہو رہی ہے لیکن انسانی شعور میں ترقی اور عالمی رہنماوں میں مشترکہ عزم توقع سے بہت جلدی منزل مقصود تک پہنچا دے گا۔


































