
تحریر: اتوسا دیناریان
سوڈان میں تنازعات پرتشدد طریقے سے جاری ہیں اور اب تک اس ملک میں امن و استحکام کے قیام کی کوششیں نہ صرف بے نتیجہ رہی ہیں بلکہ فریقین نے اپنے حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹیرس نے خبردار کیا ہے کہ "سوڈان اس وقت ایک مکمل خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔” اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اعلان کیا ہے کہ سوڈانی فوج اور اس ملک کی ریپڈ ری ایکشن فورسز کے درمیان جنگ ممکنہ طور پر پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر دے گی اور اس صورتحال سے نہ صرف سوڈان بلکہ پورے خطے کو خطرہ ہے۔ گوٹیریس نے یہ بھی کہا: "اس تنازعہ میں انسانی قانون اور انسانی حقوق کی مکمل پامالی ہو رہی ہے، جو خطرناک اور پریشان کن ہے۔”
15 اپریل سے سوڈان کے مختلف علاقوں میں سوڈانی فوج اور اس ملک کی ریپڈ رسپانس فورسز کے درمیان پرتشدد اور وسیع جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں فریق صدارتی محل سمیت اس ملک کے اہم ٹھکانوں من جملہ مسلح افواج کے جنرل کمانڈ سینٹر اور کچھ فوجی اور سویلین ہوائی اڈوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان تنازعات میں فریقین ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دارالحکومت خرطوم کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور اس شہر کے آسمان پر جنگی طیارے بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ سوڈانی فوج کے تازہ ترین فضائی حملے میں دارالسلام کے علاقے "لیبیا بازار” کے مغرب میں واقع اوم درمان شہر میں 22 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شمالی کوردوفان، جنوبی کوردوفان اور نیلے نیل کی ریاستوں میں جنگ کے پھیلاؤ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ "انسانی قوانین کو خطرناک اور تشویشناک انداز میں نظر انداز کا جا رہا ہے۔” حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جنگ بندی کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود عملی طور پر تنازع کے فریقین اس پر عمل نہیں کرتے اور فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔
سوڈان برسوں سے مختلف سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے
لیکن وہ بحران جو اس ملک کے سابق آمر عمر البشیر کے خلاف فوجی بغاوت پر منتج ہوا، اس نے فوجی حکومت کے قیام اور اس ملک میں عدم اطمینان اور سیاسی بحران کی شدت کو ہوا دی۔ یہ حالات غیر ملکی مداخلتوں، خاص طور پر حریف ممالک کی طرف سے مزید بڑھے۔ موجودہ جنگ میں، ہر فریق کو اسلحے اور آلات کی فراہمی میں غیر ملکی اپنی مداخلت کو نمایاں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سوڈان میں قبائلی تناظر اور کوردوفان اور نیل جیسی ریاستوں میں جنگ اور بدامنی نے اب حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ان علاقوں میں مرکزی حکومت کی عدم توجہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ دی اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ "دارفور کے بہت سے عرب قبائل کے ساتھ ساتھ ان کے سیاہ فام ہم وطن ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ان افریقیوں کے خلاف عرب پسندی کا تشدد پھیل چکا ہے۔”
الجزائر میں مقیم فرانس کی ایک انسانی فلاحی تنظیم کے جسٹن میوزک نے کہا ہے کہ "میں نے 20 سالوں میں ایک امدادی کارکن کے طور پر اس سے بدترین جنگ نہیں دیکھی ہے۔” سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں جنگجوؤں کو عربائزیشن کی بنیاد پر توہین اور تشدد کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس سے قبل، سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے "وولکر پیریٹز” نے مغربی دارفور میں جنگ کو "بڑے پیمانے پر نسلی تطہیر” قرار دیا تھا۔ سوڈان کے معاشی مسائل اور جغرافیائی سیاسی صورتحال ایک اور مسئلہ ہے، جس نے اس ملک کو اندرونی سیاسی گروہوں کے درمیان کھلی محاذ آرائی اور عرب ممالک کی پراکسی جنگ کے منظر نامے پر لاکھڑا کر دیا ہے۔
سوڈان بحیرہ احمر کے قریب واقع ایک ملک کے طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو صحارا افریقہ تک رسائی کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی راستوں اور آبنائے باب المندب کے ذریعے سپلائی چین کے لیے ایک اہم جغرافیائی محل وقوع شمار کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا خزانہ جسے خطے کے بعض ممالک اور سامراجی ایجنٹ حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ سیاسی ماہر پیٹرک اسمتھ لکھتے ہیں، "اپریل 2019ء میں البشیر کا تختہ الٹنے والے انقلاب کے بعد سے، سوڈان کی سونے کی تجارت ملک میں اقتدار کی سیاست میں ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ غیر سرکاری تنظیم "گلوبل وٹنس” کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق سوڈان ہر سال صرف 16 ارب ڈالر کا سونا متحدہ عرب امارات کو برآمد کرتا ہے۔
موجودہ مجموعی صورتحال نے سوڈان کو اب ایک نازک صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اس ملک میں برسر اقتدار پارٹیوں میں سے کوئی بھی اپنے ذاتی مفادات اور غیر ملکی حامیوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، اس لئے جنگ بندی کے لیے کی گئی تمام کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں، تاہم ہر کوئی پریشان ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ جنگ کا جاری رہنا نہ صرف بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا باعث بنے گا بلکہ اس میں خطے کے دیگر ممالک بھی شامل ہو جائیں گے۔


































