Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

سعودیہ میں حما س کے 68رہنما دہشت گردی کے ملزم قرار

ایک سال قید رہنما و کارکن عدالت میں پیش، حما س کے ساتھ تعلق، ناجائز طریقے سے مال کمانے اور غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کی مدد کرنے کی چارج شیٹ پیش
ارکان پر جدہ اور ریاض کی جیلوں میں تشدد کیا گیا، سعودی حکومت اسلامی مزاحمتی محاذ کی حمایت کے بجائے ان پر مقدمے چلا رہی ہے، حما س کی مقدمہ چلانے کی مذمت
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب کی فوجداری عدالت نے ایک سال سے بغیر مقدمہ چلائے قید حما س کے 68رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف دہشت گردی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی، ایک سال سے قید68 فلسطینی رہنماؤں اور کارکنوں میں سے 40کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے خلاف حما س کے ساتھ تعلق، ناجائز طریقے سے مال کمانے، بغیر اجازت تنظیمیں تشکیل دینے اور غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کی مدد کرنے کی چارج شیٹ پیش کی گئی، ان ممتاز شخصیات میں 81 سالہ محمد الخضری بھی شامل ہیں جو گزشتہ 20 سال سے سعودی عرب میں حماس کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان افراد کو اپریل 2019میں حراست میں لیا گیا تھا،ان میں سے بیشتر فلسطینی شہری ہیں جبکہ بعض اردن کی شہریت رکھتے ہیں،ان میں تعلیمی ماہرین، انجینئرز اور تاجر شامل ہیں،حماس کے ترجمان حازم قاسم نے فلسطینی رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ارکان پر جدہ اور ریاض کی جیلوں میں تشدد کیا گیا، حازم قاسم نے کہا کہ سعودی حکومت اسلامی مزاحمتی محاذ کی حمایت کے بجائے ان پر مقدمے چلا رہی ہے، وہ درحقیقت اسرائیلی ایجنڈے پر عملدرآمد میں مصروف ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقدمات کو فوری طور پر ختم کر کے تمام افراد کو فی الفور رہاکیا جائے، امت مسلمہ کے تمام اراکین کو مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے نہ یہ کہ وہ اس طرح کی مقدمہ بازی کے ذریعے اسلامی مزاحمتی محاذ کو ہی کمزور کرنا شروع کر دیں، سیاسی قیدیوں کی دیکھ بھال کے لئے بنائی گئی فلسطینی کمیٹی کے سربراہ خضر المشایخ نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی مزاحمتی محاذ کے ان اہم حامیوں اور مرکزی رہنماؤں کو فی الفور آزاد کرے یا انہیں اپنے دفاع کی خاطر اردنی یا سعودی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا حق دے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular