
ڈھاکا : بنگلہ دیش میں طلبا پھر سڑکوں پر آگئے۔ صدر شہاب الدین کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرکے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ دارالحکومت ڈھاکا میں ہزاروں مظاہرین صدر کی رہائش گاہ کے سامنے جمع ہوئے اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جسے روکنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ جھڑپوں میں کئی مظاہرین اور پچیس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ صدر نے کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس سے ثابت ہوسکے کہ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش چھوڑنے سے قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔ مظاہرین نے صدر کو چوبیس گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ طلبا تنظیم بنگلہ دیش چھاترا اودھیکار پریشد کی قیادت نے ڈھاکا یونیورسٹی میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ صدر کو بچانے اور عوامی لیگ کو بحال کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو کسی صورت قبول نہیں انہون ںے صدر کے استعفیٰ اور عوامی لیگ اور چھاتر لیگ پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔


































