¿٭۔۔۔ایک صاحب خود کشی کے بے حد خلاف تھے۔ موقع بے موقع وہ خود کشی پر لیکچر دیتے تھے ایک مرتبہ وہ ایک جلسے میں تقریر کررہے تھے، اتفاق سے موضوع بھی خود کشی ہی تھا۔ وہ صاحب جذبات میں آکر کہنے لگے۔
”خود کشی کرنا کفر ہے گناہ ہے۔ اس سے تو بہتر ہے انسان زہر کھا کر مر جائے۔“
O۔۔۔۔۔۔O ٭۔۔۔ایک لڑکا اپنے دوست کو سائیکل چلاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ لڑکا سائیکل ہاتھ چھوڑ کر چلاتا اور کہتا کہ دیکھو بغیر ہاتھوں کی، پھر سائیکل کے پینڈلوں سے پیر اٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو بغیر پیروں کے۔ اچانک وہ لڑکا سائیکل سے گرا تو اس کے سارے دانت ٹوٹ گئے۔ دوست نے جھٹ کہا۔ ”واہ دیکھو بغیر دانتوں کے۔“ O۔۔۔۔۔۔O
٭۔۔۔ایک شاعر کی بکری نے پیٹرول پی لیا۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا” صاحب ہماری بکری نے پیٹرول پی لیا ہے اور صحن میں گھوم رہی ہے۔
ڈاکٹر: فکر نہ کریں جب پیٹرول ختم ہو جائے گا تو خود ہی رک جائے گی۔
O۔۔۔۔۔۔O ٭۔۔۔ایک شخص نے اپنے کنجوس پڑوسی سے کہا۔ ارے کیا ہوگیا اتنے لال پیلے کیوں ہورہے ہو؟ پڑوسی نے کہا: ننھے نے آج نیا جوتا پہنا تھا میں نے اس سے کہا کہ ایک کے بجائے دو سیڑھیاں طے کرکے اوپر جاناتاکہ جوتے کا تلا(نیچے کا حصہ) کم گھسے لیکن وہ کم بخت دو کے بجائے تین سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پتلون پھٹ گئی۔ O۔۔۔۔۔۔O
٭۔۔۔دکاندار: یہ چھتری بہت دن چلے گی۔
گاہک۔ وہ کیسے۔
دکاندار: اگر بارش اور دھوپ سے بچائی جائے۔
O۔۔۔***۔۔۔O
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- مسکراھٹے
مسکراھٹے
-
Ilyas - جون 11, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 7
- 1 minute read


































