
قسط نمبر 01
تحریروترتیب: سید اظہر عباس نقوی
پاسبان ولایت مظفر علی کرمانی
مظفرعلی کرمانی 1960ء میں کراچی کے ایک قدیمی علاقے کھارادرمیں پیداہوئے کھارادرکو جہاں بانی پاکستان کی جائے ولادت ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے ایک نوجوان نے پاکستان کی مذہبی تاریخ میں قائدانہ کردار ادا کیا ،مظفر کرمانی کا بچپن بھی ملک کے دیگربچوں کی طرح روایتی انداز میں گزرا لیکن مذہبی گھرانہ میں پیدائش کے سبب ان کے اندرمذہبی رجحانات بچپن سے ہی محسوس کئے جاسکتے تھے اس وقت جبکہ بچے کھیل کودمیں اپنا وقت صرف کرتے ہیں آپ نماز و دیگر عبادات کی جانب مائل رہتے تھے، زمانہ طالب علمی میں آپ کے حسن اخلاق کے سبب طلباء اساتذہ آپ کو بے حد پسندکرتے تھے، وہ انتہائی ہنس مکھ اور پر مزاح شخصیت کے حامل تھے۔ اس لئے زمانہ طالب علمی میں ان کے دوستوں کی تعداد لا محدودہے، مذہبی رجحان کے ساتھ ساتھ آپ کو عزاداری کا بھی بہت شوق تھا، اسکول کے زمانہ میں دوستوں کو جمع کرکے مجلس وماتم برپا کیا کرتے تھے، اسکول کا زمانہ گزار کرجب آپ نے عالم شباب میں قدم رکھا تواس وقت تک آپ کے مذہبی رجحانات مزید پختہ ہوچکے تھے۔
انقلاب اسلامی سے وابستگی
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب پڑوسی ملک ایران میں انقلاب کروٹیں لے رہا تھا، لیکن پاکستان میں لوگ اس سے آگاہ نہیں تھے تاہم مظفرکرمانی اس انقلاب کو اپنے اندرمحسوس کررہے تھے، انہوں نے کسی معصوم کے سچے پیروکار کی طرح امام خمینیؒ کے افکار اور نظریات کی پختگی سے انہوں نے اسلام کو سمجھا ۔
شھید مظفر علی کرمانی انقلاب سے قبل امام امت امام راحل کے مقلد تھے ۔ مظفر کرمانی کے عشق کایہ عالم تھا کہ وہ امام خمینیؒ کے ہر حرف کو حرف آخرسمجھتے تھے،اس زمانہ میں امام خمینیؒ کی معرفت بہت کم افراد کو تھی مگرمظفر کرمانی نے خودکو امام خمینیؒ کی ذات میں گم کردیاتھا،
آپ نے خط امام پرچلنے اور ولایت سے مربوط ہونے کو تشیع کی نجات کا ذریعہ قراردیا
ادھر ایران میں امام خمینیؒ کی تحریک خوب پروان چڑھ رہی تھی اور ادھر پاکستان میں امریکی سازشیں عروج پرتھیں امریکہ ایران میں شہنشاہیت برقرار رکھنے کیلئے بری طرح ہاتھ پاؤں مار رہا تھا، اس نے ایران میں انقلاب کے قدموں کی آہٹ محسوس کرلی تھی وہ چاہتاتھا کہ پڑوسی ممالک اس افتادسے محفوظ رہیں اسی لئے پاکستان میں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمرضیاء الحق کو اقتدار پر براجمان کرادیا گیا اب پاکستان میں امام خمینیؒ کی حمایت میں کسی بھی تحریک کوروکنے کیلئے انتظامیہ کو فری ہنڈ مل گیا لیکن کراچی میں لوگوں کواس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑاجب 13رجب کے جلوس میں ایک جوان نے اچانک رضاشاہ پہلوی مردہ باد اور شہنشاہ ایران مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کرادیئے یقینا یہ کام کسی عام نوجوان کے بس کی بات نہیں تھی یہ وہی کرسکتا تھا جسے امام خمینیؒ کی سچی معرفت حاصل ہو اور کراچی میں مظفر کرمانی ان چند افراد میں شامل تھے جنہیں معرفت امام حاصل تھی، مظفرکرمانی کے اس عمل سے شہنشاہ کے حامیوں نے مظفر کو زدوکوب کیا جس کے سبب جلوس انتشار کا شکار ہوگیا، صرف یہی نہیں جب صدام نے نے انتہائی ظالمانہ انداز میں آیت اللہ باقر الصدر اور ان کی خواہر بنت الہدی کو شہید کرایا تو مظفر کرمانی اپنے چند ساتھیوں کو جمع کر کے ریگل چوک پہنچ گئے تاکہ صدام اور رضاشاہ پہلوی کے اس ظلم پر صدائے احتجاج بلند کیا جائے پاکستان میں صدام اور شہنشاہ ایران کے خلاف یہ پہلا منظم مظاہرہ تھا جس میں 70 سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا اور پولیس تشدد کا بھی نشانہ بنے پولیس کی مار کھانے والوں میں مظفر کرمانی بھی شامل تھے۔
شہید مظفر پاکستان میں اسلامی انقلاب کیخلاف ہونیوالے پروپیگنڈہ کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے انہوں نے ہرموقع پرلوگوں کو انقلاب کی حقیقی صورتحال سے آگاہ کیاآپ نے بارہا لوگوں پر واضح کیا کہ میری امام خمینیؒ یا انقلاب سے وابستگی شیعہ مسلک کے سبب نہیں بلکہ اسلام کے باعث ہے مظفرکرمانی امام خمینیؒ سے والہانہ محبت کے سبب ان کے ہر پیغام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے تھے، استعمارکے اشارے پرجب عراق نے ایران پرجنگ مسلط کی تو مظفرکرمانی افسردگی وغم میں ڈوب گئے انہوں نے حکومت اسلامی کی حمایت میں مظاہرے منظم کئے اورلوگوں کوانقلاب کیخلاف ہونیوالی طاغوتی سازشوں سے آگاہ کیا ان کی اپنی کاوشوں کے باعث کھارادر منی ایران کہلانے لگا، آپ نے اپنے ساتھی نوجوانوں کو اور تربیتی پروگراموں میں ہمیشہ انقلاب اسلامی کی حمایت کرنے اوراس کے تحفظ کی تائید کی، امام خمینیؒ کی رحلت مظفر کرمانی کیلئے صدمہ عظیم سے کم نہیں تھی۔
انہوں نے ملت اسلامیہ کو پہنچنے والے اس عظیم نقصان سے آگاہ کرنے کیلئے پورے کراچی میں جلوسوں اور مجالس کا انعقاد کیا رحلت کے موقع پر ایم اے جناح روڈ پر نکلنے والی عظیم الشان ریلی ذرائع ابلاغ کیلئے حیرت کا سبب بن گئے۔
* امام کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے یوم القدس اور ہفتہ وحدت کا انعقادکیا۔*
آپ نے جس طرح زندگی میں امام خمینیؒ کے افکار کو عام کیا اس طرح ان کی رحلت کے بعد اس سلسلہ کو جاری رکھا، منبروں سے انقلاب اسلامی کیخلاف ہونیوالے پروپیگنڈہ کوناکام بنایا،
انقلاب کے مخالفین کی منبروں تک رسائی ناممکن بنائی۔
جاری ہے….۔


































