
بیجنگ : چین نے کورونا وائرس کیسز میں اضافے کے بعد شمالی شہر ژیان میں شہر اور کام کی جگہوں پر ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں پر سخت لاک ڈاؤن لگانے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے حکم نامہ جاری کیا ہے کہ ضروری کام اور ایمرجنسی صورتحال کے علاوہ کسی کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ فیملی سے صرف ایک فرد کو دو روز بعد گھر سے نکل کر کھانے پینے کی اشیا خریدنے کی اجازت ہو گی۔ چین میں ابھی تک صرف سات اومی کرون کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے چار گوانگژو کے جنوبی مینوفیکچرنگ سینٹر میں، دو جنوبی شہر چانگشا میں اور ایک تیانجین کی شمالی بندرگاہ میں رپورٹ ہوا ہے۔ چین نے کورونا وائرس کے کیسز بالکل صفر کرنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اپنائے ہیں جس کے باعث لاک ڈاؤن کا نفاذ اور بڑے پیمانے پر شہریوں کی ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے جبکہ ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
فروری کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والی بیجنگ ونٹر اولمپکس کے باعث بھی سخت حفاظتی اقدامات اپنائے گئے ہیں۔ گزشتہ سال لگنے والے لاک ڈاؤن کے بعد پہلی مرتبہ شیان شہر میں اس سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔


































