
ایک مسلمان مرد اپنے بیٹے کو گود میں اٹھائے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔
یہ ظاہر تھا کہ وہ اپنے بچے کو بہت چاہتا ہے کیونکہ بہت مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور دونوں ہاتھوں سے اسے اپنے سینے سے چپکایا ہوا تھا۔
پیغمبر خدا(ص) نے جب اس باپ کی مہربانی اور محبت کو دیکھا تو خدا کی مہربانی اور محبت کی طرف متوجہ ہوئے کہ خدا تمام مہربان لوگوں سے زیادہ مہربان ہے اور خدا نے ہی یہ مہربانی لوگوں میں تقسیم کی ہے۔ اگر خدا یہ محبت و مہربانی ماں باپ کے دل میں نہیں ڈالتا تو کوئی بھی والدین اپنے بچے پر مہربان نہیں ہوتا لہذا حقیقی اور اصلی مہربان خود خدا ہے۔
رسول پاک(ص) نے ارادہ کیا کہ اس مرد کو بھی یاد خدا دلائے اور اسے سمجھائے کہ خدا سب مہربانوں سے زیادہ مہربان تر ہے۔
اسی لئے اس سے پوچھا: کیا تم اپنے بچے کو بہت چاہتے ہو؟
اس شخص نے جواب دیا: جی یا رسول اللہ!
پیغمبر نے فرمایا: تم پر خدا کی مہربانی، تمہاری اس بچے پر مہربانی سے بہت زیادہ ہے۔ خدا تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔
وہ مرد اچھی طرح سے پیغمبر کی بات سمجھ گیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ، جیسے اس نے اپنے بچے کو محبت سے گود میں لیا ہے، خدا نے بھی تمام انسانوں کو اپنی آغوش رحمت و مہربانی میں لیا ہوا ہے۔


































