
تحریر: اتوسا دیناریان
نائیجر میں بغاوت کو تقریباً ایک ہفتہ ہونے کو ہے۔ اس بغاوت سے ملک میں سیاسی بحران پھیلنا ایک فطری عمل ہے۔ مختلف ممالک نیز علاقائی اور بین الاقوامی اداروں نے اس حوالے سے مختلف موقف اپنائے ہیں۔ تازہ ترین کارروائی میں مغربی افریقی ریاستوں کے اقتصادی فورم نے نائیجر اور فورم کے رکن ممالک کے درمیان تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ افریقی فورم نے اعلان کیا ہے کہ فورم نے نائیجر کی بغاوت میں ملوث فوجی اہلکاروں پر سفری پابندی اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نائیجر میں 26 جولائی 2023ء کو صدارتی محافظ دستوں کی طرف سے بغاوت کی گئی۔ فوجی دستوں نے صدر "محمد بازوم” کو گرفتار کرکے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا اعلان کر دیا۔
اس کارروائی کے بعد نائیجر کی بغاوت کے کمانڈر جنرل "عبدالرحمن تیانی” نے ملک کے قومی ٹیلی ویژن چینل پر اعلان کیا کہ انہوں نے باضابطہ طور پر نائیجر میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے خود کو "کونسل فار دی پروٹیکشن آف دی کنٹری” کے سربراہ کے طور پر متعارف کرایا۔ نائیجر کی بغاوت کے نتیجے میں اس ملک اور بیرونی ممالک کے لوگوں نے مختلف مواقف اپنائے ہیں۔ نائیجر کے اندر بغاوت کے سینکڑوں حامیوں نے دارالحکومت نیامی میں فرانسیسی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ وہ صدر بازوم کو مغربی ممالک بالخصوص فرانس کا اتحادی سمجھتے ہوئے اقتدار سے ان کی برطرفی کی حمایت کرتے ہیں۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ نائیجر میں بغاوت کی حمایت میں مظاہرین نے روسی پرچم لہرایا اور فرانس کے خلاف نعرے لگائے۔
نائیجر مغربی افریقی خطے کے سب سے اہم اور بااثر ممالک میں سے ایک ہے، جو اس براعظم کے بیشتر ممالک کی طرح قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، خاص طور پر یورینیم، ہیرے، سونے اور کوئلے کی کانیں جو مغربی ممالک کے لیے ہمیشہ اہم رہی ہیں۔ مثال کے طور پر فرانس کی جوہری صنعت، 56 جوہری ری ایکٹرز کے ساتھ، تقریباً مکمل طور پر نائیجر کے قدرتی یورینیم کے وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نائیجر میں بغاوت کا حالیہ اقدام افریقہ میں فرانس کے مفادات پر سنگین ضرب لگائے گا۔ خاص طور پر مالی اور برکینا فاسو، جو نائیجر کے پڑوسی ہیں، اس خطے میں فرانسیسیوں کی موجودگی پر اعتراض کرتے چلے آرہے ہیں۔
سیاسی امور کے ماہر اور صحافی اینٹوئن گلیزر کہتے ہیں: "اس بغاوت کے بعد فرانس اور مغرب کے لیے بہت سی چیزیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔” درحقیقت حالیہ برسوں میں نائیجر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے مغربی ممالک کی مختلف سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ دوسری طرف مغربی ممالک فوجی اڈے قائم کرکے اس خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ دہشت گردی سے لڑنے میں مدد جیسے مختلف بہانوں کے تحت مغربی ممالک کئی ممالک میں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے نائیجر میں بغاوت کی فوری مذمت کی اور بازوم کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مغربی باشندوں کو خدشہ ہے کہ نائیجر میں پسپائی کے بعد وہ جہاں افریقہ میں اپنی حیثیت اور مفادات کو کھو دیں گے، وہاں اس سے افریقہ میں روس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ خطے میں مغرب کے ساتھ منسلک کچھ حکومتوں نے نائیجر کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور ممکنہ طور پر نائیجر کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ادھر نائیجر کی نئی فوجی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے خلاف کسی بھی جارحانہ منصوبے کے خلاف سخت مزاحمت کریں گے، تاہم نائیجر میں بغاوت کے بعد ہونے والی پیش رفت نے خطے میں سیاسی و سکیورٹی صورت حال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ کئی غیر علاقائی طاقتوں کے درمیان مسابقت میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔ ان طاقتوں کی باہمی رسہ کشی نائیجر سمیت غریب افریقی ممالک پر تباہ کن اثرات ڈال سکتی ہے۔


































